فلسطینی حکمران جماعت حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے اس معاہدے کو قبول کر لیا ہے جو اسے دو روز قبل ثالثی کرنے والے ممالک، مصر اور قطر، کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔ اس بات کا اعلان حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیہ نے ہفتے کے روز ایک ٹیلی ویژن تقریر میں کیا۔
خلیل الحیہ نے کہا کہ انہیں دو دن پہلے مصر اور قطر کے ثالثوں سے ایک تجویز موصول ہوئی تھی، جس پر انہوں نے مثبت رویہ اختیار کیا اور اسے قبول کر لیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسرائیل اس معاہدے کو سبوتاژ نہیں کرے گا۔ خلیل الحیہ فلسطینی مزاحمتی گروہ حماس کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں، جو اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کے ذریعے جنگ بندی کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
جمعرات کے روز سیکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ مصر کو اسرائیل کی جانب سے ایک نئی جنگ بندی تجویز کے حوالے سے مثبت اشارے موصول ہوئے ہیں، جس میں ایک عبوری مرحلے کی تجویز شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق، اس منصوبے کے تحت حماس ہر ہفتے پانچ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گی۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کا کہنا ہے کہ اس نے ثالثوں کی طرف سے پیش کردہ تجویز کے مطابق متعدد مشاورتیں کی ہیں اور امریکا کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں ایک جوابی تجویز ثالثوں کو بھیج دی ہے۔
روئٹرز نے اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے پوچھا کہ آیا اسرائیل نے بھی جنگ بندی کے اس منصوبے پر اتفاق کیا ہے، تاہم فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔