وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا پرامن اور منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے لیے ضروری ہے۔
بیان انیس جولائی ہر سال یوم الحاق کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ انیس جولائی انیس سو سینتالیس کو کشمیریوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد منظور کی تھی۔
اسلام آباد میں یوم الحاق کشمیر کے موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ کشمیری عوام نے پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کا فیصلہ اسی دن کر لیا تھا۔ ان کے مطابق انڈیا کے تسلط اور دس لاکھ سے زائد قابض فوج کی موجودگی کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ آزادی میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ کشمیریوں کی تیسری نسل بھی حق خود ارادیت کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے بقول یہ طویل جدوجہد اور قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ کشمیری عوام اپنی شناخت اور خودمختاری کے اصول پر قائم ہیں۔
وزیراعظم نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا حق دلوانے میں کردار ادا کرے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اس موقع پر وزارت خارجہ نے بھی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے ایسے بیانات کا مقصد مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے تاہم انڈیا کی جانب سے اس پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔