خیبرپختونخوا کے ضلع کوہستان میں میگا کرپشن اسکینڈل کی تحقیقات میں پیش رفت کے بعد گرفتار افراد کی تعداد بڑھ کر نو ہو گئی ہے۔
نجی نشریاتی ادارے ڈان نیوز کے مطابق اس اسکینڈل میں مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین اور نجی افراد شامل ہیں۔ ان افراد پر جعلی چیک، منی لانڈرنگ اور بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے کرپشن کا الزام ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار کئے گئے ملزمان میں 2 سرکاری افسر، 2 بینکر اور 4 ٹھیکیدار شامل ہیں۔ حالیہ دنوں میں گرفتار کیے گئے پانچ افراد کو احتساب عدالت میں بھی پیش کیا گیا، جن میں اکاؤنٹس آفیسر، دو ٹھیکیدار، ایک سینئر آڈیٹر اور بینک منیجر شامل تھے۔ ملزمان پرجعلی چیک، منی لانڈرنگ اور بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے خوردبرد کا الزام ہے۔ کرپشن اسکینڈل کی تحقیقات میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
عدالت نے ان ملزمان کا جسمانی ریمانڈ نیب کے حوالے کیا تاکہ مزید تفتیش کی جا سکے۔ چار دیگر ملزمان کا ریمانڈ پیر کو مکمل ہو گا۔

اس سے قبل 26 جون 2025 کو سامنے آنے والی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ نیب نے پانچ ارب روپے سے زائد کے مشکوک بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے تھے۔
اس کے علاوہ ملزمان کے گھروں سے غیر ملکی کرنسی، تین کلو سونا اور کروڑوں روپے مالیت کی 77 لگژری گاڑیاں برآمد کی گئیں۔
نیب نے اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں 109 کمرشل پراپرٹیز سیل کیں، جن میں فارم ہاؤسز، کمرشل پلازے، گھروں، فلیٹس، دکانوں اور زرعی زمینیں شامل تھیں۔
کرپشن کے اس بڑے نیٹ ورک کی مزید پرتیں کھلنے کا امکان ہے کیونکہ نیب کی جانب سے تحقیقات اور گرفتاریاں جاری ہیں۔ ادارہ کرپشن میں ملوث دیگر افراد اور ان کے مالیاتی روابط کا بھی سراغ لگا رہا ہے۔