سیکرٹری پنجاب ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر نے ڈی جی پی آر کانفرنس ہال میں مون سون اور فلڈ ریسکیو آپریشن کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ مون سون بارشوں کے دوران 119 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 1594 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر ریسکیو 1122 کو صوبہ بھر میں ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ بروقت آگاہی سے متعدد لوگوں کو محفوظ مقام تک منتقل کرنا ممکن ہوا۔
مون سون سیزن سے قبل تجاوزات کے خاتمے کی مہم سے حالات میں بہتری آئی۔ انہوں نے پرانے مکانات میں رہنے والوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی عمارتوں کی نگرانی کریں، اور عوام کو ہدایت دی کہ کوڑا کرکٹ کو نالوں میں نہ پھینکیں، برقی آلات کو بارش کے دوران نہ چھوئیں، اور نشیبی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں۔
25 جون سے شروع ہونے والی مون سون ریسکیو کارروائیوں میں اب تک صوبہ بھر میں 1594 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔ ان میں سے 780 افراد کو مون سون اور بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں مدد فراہم کی گئی، جب کہ 119 افراد جاں بحق ہوئے۔ 331 افراد کو موقع پر ابتدائی طبی امداد دی گئی اور 449 شدید زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

ریسکیو ڈیٹا کے مطابق 25 جون سے 365 عمارتوں کے گرنے، 23 کرنٹ لگنے، 62 بارش سے متعلق ٹریفک حادثات، 7 گرنے کے واقعات، 4 آسمانی بجلی گرنے، اور 21 ڈوبنے کے واقعات میں فوری امداد فراہم کی گئی۔
سب سے زیادہ اموات لاہور میں 27، فیصل آباد میں 15، شیخوپورہ میں 11، راولپنڈی میں 10، اوکاڑہ میں 9، بہاولنگر میں 7 رپورٹ ہوئیں، جبکہ دیگر اضلاع میں 40 افراد جاں بحق ہوئے۔ ان اموات کی بڑی وجہ خستہ حال اور کمزور مکانات کا منہدم ہونا بتایا گیا۔
سیلابی صورتحال کے حوالے سے بتایا گیا کہ ممکنہ متاثرہ علاقوں میں 100 سے زائد ریسکیو بوٹس، 312 ریسکیورز، OBM انجنز اور دیگر ایمرجنسی آلات تعینات کیے جا چکے ہیں۔
میانوالی، ڈی جی خان، لیہ، راجن پور، ننکانہ، نارووال اور جہلم سے 444 افراد کا محفوظ انخلا کیا گیا، جب کہ 370 افراد اور 202 مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
ریسکیو 1122 نہ صرف مون سون اور سیلابی ایمرجنسیز میں متحرک ہے بلکہ روزانہ ساڑھے چھ ہزار سے زائد معمول کی ایمرجنسیز پر بھی عوام کو خدمات فراہم کر رہی ہے۔