وفاقی وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے امریکا اور پاکستان کے درمیان تجارتی معاہدے کو حتمی مرحلے کے قریب قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ یہ معاہدہ ممکنہ طور پر چند دنوں میں طے پا سکتا ہے۔
واشنگٹن میں تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دونوں ملکوں کی ٹیمیں رابطے میں ہیں، ورچوئل ملاقاتیں بھی ہو چکی ہیں، اور وزیر اعظم نے ایک خصوصی کمیٹی کو معاہدے کی تفصیلات مکمل کرنے کا ٹاسک دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ مہینوں یا ہفتوں کی بات نہیں بلکہ صرف دنوں کی بات ہے۔
تاہم اس کے برعکس جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے اسحاق ڈار کی ملاقات کے بعد امریکی حکام کی جانب سے بیان جاری کیا گیا تو اس میں کسی مخصوص ٹائم لائن کا ذکر نہیں کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امریکا کے کردار کو تعمیری اور استحکام کا باعث قرار دیا۔ انہوں نے مئی 2025 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے اس جنگ بندی میں ثالث کا مؤثر کردار ادا کیا، جس پر انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ بھی ادا کیا۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان امن پر یقین رکھتا ہے، کبھی اشتعال انگیزی میں پہل نہیں کی بلکہ ہمیشہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع میں کارروائی کی ہے۔
We are very close to finalizing a trade deal with the US, Pakistani Deputy Prime Minister @MIshaqDar50 tells @dandeluce at an #ACFrontPage conversation.
— Atlantic Council (@AtlanticCouncil) July 25, 2025
Watch the full event: ➡️ https://t.co/3bHbVFLBKn pic.twitter.com/eerrVf26kp
انہوں نے پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو دیرپا، جامع اور مسلسل ترقی پذیر قرار دیا اور کہا کہ جب بھی دونوں ممالک نے عالمی امور پر یکجہتی اختیار کی، ان کی شراکت داری نتیجہ خیز ثابت ہوئی۔
انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ صدر ٹرمپ کے دورِ اقتدار کے آغاز کے بعد دوطرفہ تعلقات میں بہتری کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔
اسحاق ڈار نے اپنی امریکی ہم منصب مارکو روبیو سے ہونے والی ملاقات کو بھی نتیجہ خیز قرار دیا، اور بتایا کہ دونوں فریقین نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط اور وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
ان کے مطابق صرف چھ ماہ میں دوطرفہ روابط میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے، اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے مزید قریب آ رہے ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ صدر ٹرمپ نے امریکی کانگریس سے اپنے مشترکہ خطاب میں عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہا تھا۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اور نئی حقیقتیں پرانی یقین دہانیوں کی جگہ لے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے، جو استقامت اور پرامن بقاء پر یقین رکھتی ہے، اور جس کی نوجوانوں پر مشتمل آبادی اسے دنیا کے پانچویں بڑے ملک کے طور پر اہم حیثیت دیتی ہے۔