Follw Us on:

اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے اعلانات کے باوجود حملے جاری، 53 فلسطینی شہید

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
Israel
اسرائیل نے ہفتے کو اعلان کیا کہ اس نے غزہ میں امدادی سامان کی فضائی ترسیل کا آغاز کر دیا ہے۔ (فوٹو: رائٹرز)

اسرائیل کی جانب سے اتوار کے روز سے “انسانی بنیادوں پر” صبح 10 بجے سے رات 8 بجے تک الماواسی، دیر البلح اور غزہ سٹی میں “عارضی جنگ بندی” کا اعلان کیا گیا، مگر ان اعلانات کے باوجود غزہ پر بمباری اور حملے جاری ہیں۔

مقامی حکام کے مطابق صرف اتوار کی صبح سے اب تک کم از کم 53 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، صورتحال مزید ابتر، غزہ میں بھوک اور قحط سے چھ افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں ایک نومولود بچہ بھی شامل ہے۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں غزہ میں جاری انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کر چکی ہیں، مگر امدادی کارروائیوں میں شدید رکاوٹیں برقرار ہیں۔

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ وہ غزہ کے تین مخصوص علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر فوجی کارروائیوں کو عارضی طور پر روک دے گی۔ یہ اعلان انسانی بحران میں کمی لانے کے لیے کیے گئے کچھ اقدامات کے فوراً بعد سامنے آیا ہے۔

فوج کے مطابق یہ وقفہ روزانہ صبح 10 بجے سے رات 8 بجے تک جاری رہے گا اور یہ تین علاقوں میں نافذ ہوگا: المغاویسی، دیر البلح اور غزہ سٹی۔ اس فیصلے پر آئندہ اطلاع تک عمل جاری رہے گا۔

اسرائیلی فوج نے مزید بتایا کہ صبح 6 بجے سے رات 11 بجے تک مستقل بنیادوں پر محفوظ راستے بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ شہری محفوظ طریقے سے نقل و حرکت کر سکیں۔

مصری سرکاری خبر رساں ادارے القاہرہ نیوز ٹی وی کے مطابق اتوار کے روز مصر سے امدادی ٹرک غزہ کی طرف روانہ ہونا شروع ہوئے، جس سے مہینوں سے جاری عالمی دباؤ اور اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کی جانب سے قحط کے بڑھتے خطرے کی بازگشت سننے کو ملی۔

Gaza rescuers say 10 killed in israeli attacks
غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ان مراکز کے اطراف اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے سیکڑوں افراد شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔ (تصویر: عرب نیوز)

اسرائیل نے ہفتے کو اعلان کیا کہ اس نے غزہ میں امدادی سامان کی فضائی ترسیل کا آغاز کر دیا ہے اور انسانی بحران میں کمی کے لیے مزید اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اقوام متحدہ کے قافلوں کے لیے محفوظ راستے قائم کیے جائیں گے اور گنجان آباد علاقوں میں “انسانی وقفے” دیے جائیں گے تاکہ امداد پہنچائی جا سکے۔

القاہرہ نیوز کے رپورٹر نے رفح بارڈر سے اطلاع دی کہ درجنوں ٹرک جن میں ٹنوں امدادی سامان لدا ہوا ہے، جنوبی غزہ کے کرم ابو سالم (کریم شالوم) بارڈر کی طرف روانہ ہوئے۔

عالمی امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ غزہ کے 22 لاکھ شہری شدید بھوک کا شکار ہیں کیونکہ اسرائیل نے مارچ میں علاقے کو تمام اشیائے خور و نوش کی فراہمی بند کر دی تھی، جسے مئی میں سخت پابندیوں کے ساتھ جزوی طور پر بحال کیا گیا۔

اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ غزہ میں کافی خوراک بھیج چکا ہے اور اقوام متحدہ پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ اس خوراک کی مناسب تقسیم میں ناکام رہا ہے۔ اقوام متحدہ کہتا ہے کہ وہ اسرائیلی رکاوٹوں کے باوجود ممکنہ حد تک مؤثر طریقے سے کام کر رہا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے فضائی امداد کے اعلان سے قبل دوحہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ جنگ بندی مذاکرات ناکام ہو چکے تھے۔ اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا کہ یہ امدادی پیکیجز بین الاقوامی اداروں کی شراکت سے گرائے جائیں گے، جن میں آٹا، چینی اور ڈبہ بند خوراک شامل ہوگی۔

فلسطینی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ شمالی غزہ میں فضائی امداد پہنچنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ اسرائیل کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ فوج اتوار کی صبح شہری علاقوں اور امدادی راہداریوں میں “انسانی وقفہ” دے گی، تاہم مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔

Image

اسرائیلی فوج نے اپنے ہفتہ وار بیان میں کہا کہ غزہ میں قحط کی خبریں جھوٹ پر مبنی ہیں اور یہ مہم حماس کی جانب سے چلائی جا رہی ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ خوراک کی تقسیم کی ذمہ داری اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیموں کی ہے، اس لیے ان اداروں کو امداد کی مؤثر تقسیم کو بہتر بنانا ہوگا اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ امداد حماس تک نہ پہنچے۔

قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امداد جہاز کے ذریعے غزہ میں امداد پہنچانے کی کوشش کرنے والی تنظیم فریڈم فلوٹیلا کولیشن (ایف ایف سی) کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے اس جہاز کو بین الاقوامی پانیوں میں غزہ سے تقریباً 40 ناٹیکل میل (74 کلومیٹر) کے فاصلے پر تشدد کے ذریعے روک لیا ہے۔

تنظیم نے ایک بیان میں کہا کہ مقامی وقت کے مطابق رات 11 بج کر 43 منٹ (پاکستانی وقت کے مطابق اتوار کی صبح ایک بج کر 43 منٹ) پر اسرائیلی فورسز کی جانب سے جہاز پر نصب کیمرے بند کیے جانے کے بعد حنظلہ سے تمام رابطے منقطع ہو گئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ غیر مسلح کشتی جان بچانے والی امدادی اشیا لے جا رہی تھی کہ اسرائیلی فورسز نے زبردستی سوار ہو کر اس پر قبضہ کر لیا، مسافروں کو اغوا کر لیا گیا اور سامان ضبط کر لیا گیا، یہ کارروائی غزہ کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں فلسطینی سمندری حدود سے باہر کی گئی، جو بین الاقوامی سمندری قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے‘۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس