Follw Us on:

’شدید تر موسمیاتی تبدیلی‘، گلگت بلتستان میں سیلاب سے ہلاکتیں 10 ہوگئیں

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
Flood
چلاس کے مینار علاقے سے ایک نامعلوم خاتون کی لاش دریائے سندھ سے برآمد ہوئی ہے۔ (فوٹو: فائل)

گلگت بلتستان میں حالیہ سیلابی صورتحال کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 10 ہو چکی ہے جبکہ ریسکیو اور امدادی سرگرمیاں تاحال جاری ہیں۔ حکام کے مطابق سیلاب میں پھنسے ہوئے سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

خطے میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات شدید تر ہو گئے ہیں۔ غیر معمولی گرمی، بے ترتیب موسم اور گلیشیئرز کے پگھلنے سے بادل پھٹنے اور شدید سیلابی ریلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پیر کے روز گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کے بعد سیلاب آیا، جس سے لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، درجنوں افراد پھنس گئے اور پانچ سو سے زائد مکانات، سڑکیں اور دیگر ڈھانچے متاثر ہوئے۔

گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے بتایا کہ بابو سر میں چار افراد کی ہلاکت اور 15 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات کے بعد اب ہلاکتوں کی تعداد سات ہو چکی ہے۔ دیامر کی تھور ویلی سے دو جبکہ استور سے ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔

Flood in pakistan..
سیلاب سے گلگت بلتستان میں کم از کم 20 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ (فوٹو: ڈان نیوز)

چلاس کے مینار علاقے سے ایک نامعلوم خاتون کی لاش دریائے سندھ سے برآمد ہوئی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ بابوسر ہائی وے پر بہہ جانے والے کسی سیاح کی لاش ہو سکتی ہے۔

فراق نے کہا کہ بابو سر ویلی میں 10 سے 12 سیاحوں کے لاپتہ ہونے کا اندیشہ ہے اور ان کی تلاش کے لیے پاک فوج، ضلعی انتظامیہ اور دیگر ادارے سرگرم عمل ہیں۔ غذر، گانچھے اور گلگت میں بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

فری میڈوز میں پھنسے بیشتر سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ شاہراہ قراقرم کو تمام اقسام کی ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے۔

سیلاب سے گلگت بلتستان میں کم از کم 20 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ چونکہ گلگت بلتستان کا انحصار گرانٹس پر ہے، اس لیے صرف صوبائی حکومت کے لیے ان نقصانات کا ازالہ ممکن نہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے الگ ہنگامی گرانٹ دینے کا مطالبہ کیا۔

وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان نے بھی وفاق سے 7 ارب روپے کے ہنگامی فنڈز کی اپیل کی ہے تاکہ ان موسمیاتی آفات سے نمٹا جا سکے جن سے پورے خطے میں 20 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سیلاب نے سات اضلاع کو متاثر کیا ہے، جن میں سب سے زیادہ متاثرہ ضلع دیامر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں روزانہ کی بنیاد پر سیلابی واقعات ہو رہے ہیں، اور اب تک 300 گھر مکمل، 200 جزوی طور پر تباہ، 40 پانی کی نہریں، 30 دیہات میں بہہ گئی ہیں، جبکہ 15 کلومیٹر طویل سڑکیں، پل، زرعی زمین، فصلیں اور دیگر انفراسٹرکچر شدید متاثر ہوا ہے۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ موجودہ بجٹ میں ہنگامی صورتحال کے لیے صرف ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ماضی کے آفات کی بحالی کے لیے پہلے سے ہی تین ارب روپے کے بقایاجات موجود ہیں۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس