وادی تیراہ میں جاری کشیدگی کے خلاف برقمبر خیل قوم اور کالعدم ٹی ٹی پی کے مقامی رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں، جس کے بعد قبائلی عوام کی جانب سے جاری دھرنے کو پانچ اگست تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔
کالعدم ٹی ٹی پی کے مقامی مشران نے دھرنے کی قیادت سے مذاکرات میں بتایا کہ ان کی مرکزی شوریٰ افغانستان میں موجود ہے، جس سے مشاورت کے بعد ہی وہ علاقے سے پرامن انخلاء کے مطالبے پر حتمی فیصلہ دے سکیں گے۔
طالبان رہنماؤں نے مظاہرین کو یقین دہانی کرائی کہ وہ پانچ اگست تک اپنی مرکزی قیادت سے مشاورت کے بعد دھرنے کے مشران کو جواب دیں گے۔
دھرنے کی قیادت قومی مشر ظاہر شاہ آفریدی کر رہے تھے۔ دھرنے میں قبائلی عمائدین، مدارس اور اسکولوں کے طلباء، بزرگ، نوجوان اور بچوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ مظاہرین مکمل طور پر پرامن رہے اور سروں پر قرآن پاک اٹھا کر علاقے میں امن کے قیام کا مطالبہ کرتے رہے۔
مزید پڑھیں: سیالکوٹ، گھر سے لاپتہ کمسن بہن بھائی کی لاشیں قریبی قبرستان سے برآمد، ڈی پی او کا فوری نوٹس
مظاہرین نے وادی تیراہ کے علاقے بھوٹان میں کالعدم ٹی ٹی پی کے نمائندوں کے ٹھکانوں کا رخ کیا اور مقامی قیادت سے خواتین و بچوں کے تحفظ کی فریاد کرتے ہوئے علاقے سے عسکریت پسندوں کے پرامن انخلاء کا مطالبہ کیا۔
دھرنے کے تمام انتظامات مظاہرین نے اپنی مدد آپ کے تحت کیے۔ کھانے پینے کے لیے مظاہرین کے پاس صرف خشک روٹی، پیاز، پانی اور گُڑ موجود تھا۔
برقمبر خیل قوم کا واضح مؤقف ہے کہ جب تک وادی تیراہ سے عسکریت پسندوں کا مکمل انخلاء نہیں ہوتا، علاقے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔