مالی سال 2025 میں سیمنٹ انڈسٹری نے اپنی کارکردگی کے حوالے سے ایک اہم موڑ عبور کیا ہے جہاں حجم کی اہمیت منافع پر غالب رہی ہے۔
اس سال سیمنٹ کی مقامی طلب میں تین فیصد کمی کے باوجود برآمدات میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اس کی وجہ عالمی منڈیوں کی بحالی اور سرحدی ممالک کے ساتھ تجارتی راستوں کا دوبارہ فعال ہونا بتایا جا رہا ہے۔
سیمنٹ انڈسٹری کی سات بڑی کمپنیوں نے مالی سال 2025 کے نتائج رپورٹ کیے ہیں جن کے مطابق مجموعی آمدنی میں سات فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ ٹیکس کے بعد منافع میں 64 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
صنعت کے پیمانے پر مجموعی حجم میں صرف دو فیصد اضافہ ہوا جو زیادہ تر برآمدات کی بدولت ممکن ہوا۔
برآمدات کی بڑھتی ہوئی شرح نے مقامی طلب میں کمی کے اثرات کو جزوی طور پر کم کیا ہے۔ برآمدات کا حصہ 16 فیصد سے بڑھ کر 20 فیصد تک پہنچ گیا ہے جس سے پیداواری صلاحیت کے استعمال کی شرح بھی بہتر ہوئی ہے۔
اس سے کمپنیوں کو بیرونی منڈیوں تک اپنی رسائی بڑھانے کا موقع ملا ہے جہاں اقتصادی حالات سازگار ہوں۔

منافع کے مارجن اور نفع میں اضافہ ہوا ہے جس کی بنیادی وجوہات میں کوئلے کی قیمتوں میں کمی توانائی کے بھاری اخراجات کو کم کرنے کے لیے قابلِ تجدید توانائی میں صنعت کی سرمایہ کاری اور قیمتوں میں اوسطاً 15 فیصد اضافے شامل ہیں۔
اوور ہیڈ اخراجات آمدنی کا سات فیصد تک محدود رہے جبکہ مالی لاگت آمدنی کے چھ فیصد سے کم ہو کر چار فیصد رہ گئی ہے۔ اس میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں کمی کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
انفرادی کمپنیوں کی بات کی جائے تو میپل لیف لکی اور اٹک نے اپنی ذیلی کمپنیوں میں سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی دیگر آمدنی سے اپنی آمدنی میں 30 سے 50 فیصد تک اضافہ کیا ہے۔
یہ حکمت عملی خاص طور پر میپل لیف اور لکی کے لیے مؤثر رہی اور اٹک کو ممکنہ نقصان سے بچانے میں مدد دی ہے۔ تاہم چھوٹی کمپنیاں بڑھتے ہوئے مالی اخراجات اور اوور ہیڈز کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔
درمیانے درجے کی کمپنیوں میں چیراٹ نمایاں ہے جس نے فی حصص آمدنی میں سب سے زیادہ اضافہ کیا ہے اور سب سے مضبوط مجموعی مارجن حاصل کیے ہیں۔
اس کی کامیابی کی ایک وجہ حجم میں اضافہ اور شمسی توانائی کے استعمال سے توانائی کی فی یونٹ لاگت میں کمی کو قرار دیا جا رہا ہے۔

فوجی اور ڈی جی کے سی کمپنیوں نے بھی مالی سال 2025 میں حجم اور مالی کارکردگی میں بہتری دکھائی ہے تاہم وہ ابھی مقابلے میں پیچھے ہیں۔
فوجی کی فی حصص آمدنی برآمدات میں اضافے کے باوجود کمزور رہی ہے جبکہ ڈی جی کے سی کی لاگت اور آپریشنل کمزوریاں اسے نمایاں طور پر متاثر کر رہی ہیں۔
اگرچہ ڈی جی کے سی نے لاگت پر قابو پانے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں اور بحالی کے راستے پر ہے مگر یہ عمل اتنی تیزی سے نہیں ہو رہا۔ مثال کے طور پر مالی سال 2025 میں ڈی جی کے سی کے پاس چیراٹ کے مقابلے میں دوگنا حجم تھا لیکن اس نے اتنا ہی منافع کمایا جتنا چھوٹی کمپنی نے۔
ماہرین کے مطابق وہ کمپنیاں جو اپنی مارکیٹ کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کو بھی متنوع رکھتی ہیں وہ طویل مدتی اتار چڑھاؤ کے دوران زیادہ مستحکم رہتی ہیں خاص طور پر جب مقامی طلب کم ہو۔
مالی سال 2025 کے دوران برآمدات میں اضافہ اور توانائی کے اخراجات میں کمی نے سیمنٹ انڈسٹری کی مجموعی مالی صحت بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
اس صنعت کے مستقبل کے حوالے سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ برآمداتی مواقع اور توانائی کے حوالے سے سرمایہ کاری جاری رہے گی تاکہ منافع کے مارجن مزید بہتر ہو سکیں۔
حکومتی اداروں اور متعلقہ حکام نے اس صنعت کی نمو کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تجارتی پالیسیوں اور توانائی کے متبادل ذرائع کی فراہمی سے صنعت کی کارکردگی کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔
واضع رہے کہ صنعت کی ترقی کے لیے سرکاری تعاون اور مناسب ریگولیٹری فریم ورک ضروری قرار دیا گیا ہے تاکہ حجم کے ساتھ منافع بخش کارکردگی کو بھی فروغ دیا جا سکے۔