پاکستان روس کے ساتھ انسولین کی مقامی پیداوار کے لیے تعاون پر غور کر رہا ہے۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کا ایک اعلیٰ سطح اجلاس ہوا جس میں روس کے ساتھ انسولین کی تیاری کے منصوبے پر بات چیت کی گئی۔
اجلاس وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی صدارت میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں روسی حکومت کے نمائندے ڈینس نزاروف سیکریٹری صنعت و پیداوار سیف انجم اور ڈریپ کے سینئر حکام بھی شامل تھے۔
وزارت صنعت و پیداوار کے جاری کردہ بیان کے مطابق گفتگو کا مرکز پاکستان میں انسولین کی مقامی پیداوار کے لیے روس کے ساتھ مشترکہ منصوبے کا قیام تھا۔
ہارون اختر خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس کے ساتھ انسولین کی تیاری کا منصوبہ دوطرفہ تعلقات کے ایک نئے دور کی بنیاد بنے گا۔
انہوں نے کہا پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انسولین کی تیاری مرحلہ وار ہوگی اور تین سال کے اندر بڑی سطح پر پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی ممکن ہوگی۔

معاون خصوصی نے مزید کہا کہ یہ مشترکہ منصوبہ کاروباری مواقع پیدا کرے گا اور پاکستانی عوام کو ادویات تک بہتر رسائی فراہم کرے گا۔ منصوبے کی کامیابی کے لیے شراکت دار کمپنیوں کی سخت تعمیل کی ضرورت پر زور دیا۔
وزارت صنعت و پیداوار کے بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام ملک میں انسولین کی دستیابی کو بہتر بنانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔
حکومتی حکام نے اس تعاون کو دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کے تناظر میں اہم قرار دیا ہے۔
متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کی تکمیل سے ادویات کی مقامی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور درآمدات پر انحصار کم ہوگا۔ مستقبل میں اس طرح کے منصوبے صحت کی صنعت کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
واضع رہے کہ ابھی اس منصوبے کی حتمی تفصیلات طے کی جا رہی ہیں اور اگلے چند مہینوں میں مزید پیش رفت کی توقع ہے۔
حکومتی ذرائع نے کہا ہے کہ اس تعاون سے پاکستان کی ادویات کی صنعت کو تقویت ملے گی اور عوام کو معیاری انسولین دستیاب ہوگی۔