وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے کہا ہے کہ امریکا کے لیے ان کے ملک پر حملہ کرنا ممکن نہیں ہے، جب کہ واشنگٹن کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور امریکی بحری جنگی جہاز جنوبی کیریبین میں وینزویلا کی سمندری حدود کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق صدر مادورو نے فوجی تربیتی کیمپ میں فوجی اہلکاروں سے خطاب میں کہا امریکا کسی بھی صورت وینزویلا میں داخل نہیں ہو سکتا اور وینزویلا اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، کیونکہ امریکی جنگی بحری بیڑا لاطینی امریکی منشیات فروشوں کے خلاف نام نہاد آپریشن کے لیے علاقے میں پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج ہم کل سے زیادہ مضبوط ہیں۔ آج ہم امن، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے مزید تیار ہیں۔
اقوام متحدہ میں وینزویلا کے سفیر سیموئیل مونکاڈا نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش سے ملاقات کے دوران امریکا کی عسکری سرگرمیوں پر شدید احتجاج کیا۔

انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہاکہ یہ ایک بہت بڑی پروپیگنڈا مہم ہے، جس کا مقصد نام نہاد کائنیٹک ایکشن یعنی فوجی مداخلت کو جواز فراہم کرنا ہے، جب کہ وینزویلا ایک خودمختار اور آزاد ملک ہے جو کسی کے لیے خطرہ نہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ایک ایٹمی آبدوز بھیجی جا رہی ہے، یہ مضحکہ خیز ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف ایٹمی آبدوز استعمال کی جائے۔
مزید پڑھیں:یمن سے اسرائیل پر میزائل حملہ، حوثیوں کا مظلوم فلسطینیوں کے دفاع کا اعلان
اسی روز امریکی بحریہ کے چیف آف نیول آپریشنز ایڈمرل ڈیرل کلاڈ نے تصدیق کی کہ امریکی جنگی جہاز جنوبی امریکا کے پانیوں میں تعینات کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی حکام کو شبہ ہے کہ بعض وینزویلی شہری منشیات کی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔