امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے دریا کے بیٹ میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو ناجائز طور پر این او سی جاری کیے، این او سیز دینا ریاستی قانون کے خلاف ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے لاہور کے علاقے چوہنگ میں الخدمت خیمہ بستی کا دورہ کیا اور سیلاب متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہزاروں متاثرین پانی میں گھرے ہوئے ہیں اور حکومت نے اب تک ان کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ماضی کی حکومتوں نے دریا کے بیٹ میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو ناجائز طور پر این او سی جاری کیے، جس کے باعث آج عام اور متوسط طبقے کے لوگ سیلاب کی نذر ہو گئے۔
امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ یہ جرم مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی دونوں حکومتوں نے کیا ہے، این او سیز دینا ریاستی قانون کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن نے اپنی مدد آپ کے تحت خیمہ بستی قائم کی ہے، جہاں متاثرین کو کھانے پینے، رہائش اور بچوں کی تعلیم تک کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہمارے رضاکار اور طلبہ صبح شام خدمت میں مصروف ہیں تاکہ متاثرین کو عزت کے ساتھ سہارا دیا جا سکے۔
انہوں نے حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ حکمران کشتیوں اور ہیلی کاپٹروں سے فوٹو سیشن کرتے ہیں لیکن عملی طور پر عوام کو ڈبوتے ہیں۔ دریاؤں کو نالے قرار دینا جہالت کی انتہا ہے، ریاست کو آبی جارحیت کے معاملے پر انڈیا کے خلاف عالمی سطح پر مقدمہ اٹھانا چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی متاثرہ خاندانوں کے مقدمات لڑے گی اور حکومت سے مطالبہ کرے گی کہ جنہیں جعلی این او سی دے کر بسایا گیا ہے، انہیں متبادل جگہ اور معاوضہ فراہم کیا جائے۔
مزید پڑھیں: ’پناہ، کھانا اور طبی سہولیات‘، الخدمت فاؤنڈیشن کی خیمہ بستی کیسے کام کر رہی ہے؟
حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی اور جنگلات کی کٹائی نے بھی تباہی کو بڑھایا، لیکن حکومتیں کرپشن اور سیاسی لڑائیوں میں الجھی رہیں۔ یہ مسئلہ کسی ایک پارٹی کا نہیں بلکہ تمام جماعتوں میں موجود مافیاز کا ہے۔
انہوں نے لاہور کے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ الخدمت کے رضاکار بنیں اور خدمت خلق کے کاموں میں حصہ ڈالیں۔