Follw Us on:

صدر شمالی کوریا کی روس میں ہلاک ہوئے سپاہیوں کے لواحقین سے ملاقات: ‘انہوں نے اپنے خاندانوں اور بچوں کو میرے سپرد کیا’

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
Whatsapp image 2025 08 30 at 6.14.33 pm (1)
سپاہیوں نے مجھے کوئی مختصر خط تک نہیں لکھا، کم جونگ (فوٹو روئٹرز)

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے یوکرین جنگ میں روس کے لیے لڑتے ہوئے مارے جانے والے فوجیوں کے خاندانوں سے ملاقات کی اور انہیں “خوبصورت زندگی” دینے کا وعدہ کیا۔ کم جونگ نے ان اہلکاروں کی قربانی کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے ملک کے وقار کے دفاع کے لیے اپنی جانیں نچھاور کیں۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق کم جونگ نے اس موقع پر کہا کہ ان سپاہیوں نے مجھے کوئی مختصر خط تک نہیں لکھا، مگر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انہوں نے اپنے خاندانوں اور بچوں کو میرے سپرد کر دیا ہے۔ تقریب میں نشر ہونے والی فوٹیج میں کم جونگ کو فوجیوں کے اہلِ خانہ کے سامنے جھکتے اور جذباتی مناظر کا تبادلہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔

یہ تقریب ان فوجیوں کی قربانیوں کو یاد کرنے کے لیے منعقد کی گئی جنہوں نے یوکرین کی سرحد سے متصل روس کے کرسک علاقے میں بھاری جانی نقصان اٹھایا۔ واضح رہے کہ کم جونگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے رواں سال اپریل میں پہلی بار عوامی طور پر ان فوجیوں کی تعیناتی کا اعتراف کیا تھا۔

Whatsapp image 2025 08 30 at 6.14.33 pm (2)
یہ تقریب ان فوجیوں کی قربانیوں کو یاد کرنے کے لیے منعقد کی گئی (فوٹو سی این این )

شمالی کوریا کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ہفتے کے روز 25 منٹ طویل ایک دستاویزی فلم بھی نشر کی، جس میں “آپریشن کرسک لبریشن” کے دوران شمالی کوریائی فوجیوں کی فوٹیج دکھائی گئی۔ فلم میں دعویٰ کیا گیا کہ کم جونگ نے گزشتہ سال اگست میں روس میں فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا، جو پیوٹن کے ساتھ ایک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کے دو ماہ بعد عمل میں آیا۔

روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ کم جونگ آئندہ ہفتے چین میں دوسری جنگ عظیم میں جاپان کی ہتھیار ڈالنے کی یادگاری فوجی پریڈ میں صدر پیوٹن کے ساتھ شریک ہوں گے۔ یہ گزشتہ دو سال میں ان کی تیسری ملاقات ہوگی، جو دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے فوجی اتحاد کی عکاسی کرتی ہے۔

مزید پڑھیں :امریکی عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف کو ’غیر قانونی‘ قرار دے دیا

اگرچہ شمالی کوریا اور روس نے فوجیوں کی تعیناتی اور ہلاکتوں کی درست تفصیل ظاہر نہیں کی، لیکن جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس ایجنسی کا کہنا ہے کہ بھیجے گئے تقریباً 15 ہزار فوجیوں میں سے کم از کم 600 ہلاک ہو چکے ہیں۔لیکن مغربی انٹیلی جنس ادارے یہ تعداد 6 ہزار سے زیادہ بتاتے ہیں۔

Author

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

متعلقہ پوسٹس