نیوزی لینڈ میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس نے نہ صرف قانونی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ ایک پہاڑ، جو مقامی ماؤری قوم کے لیے ایک مقدس روحانی ورثہ تھا، کو انسان کے مساوی حقوق اور ذمہ داریوں کے ساتھ قانونی شخصیت کا درجہ دے دیا گیا ہے۔
اس پہاڑ کا نام ‘تاراناکی ماونگا (Taranaki Maunga)’ ہے، جسے پہلے ‘ماؤنٹ ایگمنٹ’ (Mount Egmont) کہا جاتا تھا۔
تاراناکی ماونگا، جو نیوزی لینڈ کے شمالی جزیرے کا دوسرا بلند ترین پہاڑ ہے اب نہ صرف ایک قدرتی عجوبہ سمجھا جاتا ہے بلکہ اسے قانونی طور پر ایک زندہ، آزاد اور خود مختار شخصیت قرار دیا گیا ہے۔
یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو نہ صرف مقامی ماؤری قوم کی ثقافتی ورثہ کا احترام کرتا ہے بلکہ اس پہاڑ کے ساتھ جڑے ہوئے تمام قدرتی عناصر کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔
کیسے ایک پہاڑ کو شخصیت کا درجہ دیا گیا؟
یقیناً یہ سوال ذہن میں آنا فطری ہے کہ آخر ایک پہاڑ کو ‘شخص’ قرار دینے کا مطلب کیا ہے؟ اس سوال کا جواب نیوزی لینڈ کے حالیہ قانون میں چھپا ہے۔ یہ قانون تاراناکی ماونگا کو تمام انسانی حقوق، اختیارات، ذمہ داریوں اور قانونی معاملات کا حامل بناتا ہے۔
اس پہاڑ کا نیا قانونی نام ‘تِے کاہُویِی ٹُوپُوَا’ (Te Kāhui Tupua) رکھا گیا ہے جو اس پہاڑ کی جسمانی اور روحانی حقیقت کو یکجا کرتا ہے۔
یہ پہاڑ اور اس کے ارد گرد کی سرسبز وادی کو اب ایک واحد، ناقابلِ تقسیم اور زندہ وجود کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، جو نہ صرف زمین کی مادی حقیقت بلکہ اس کی روحانی طاقت کو بھی اپنا حصہ مانتا ہے۔
قانون میں اس کے دفاع کے لیے ایک نئی قانونی شخصیت تشکیل دی گئی ہے جس کے پاس تاراناکی ماونگا کے مفادات کا تحفظ کرنے کا اختیار ہوگا۔
تاراناکی ماونگا کی اہمیت صرف اس کی بلندی یا قدرتی خوبصورتی تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ پہاڑ مقامی ماؤری قوم کے لیے ایک محترم آبا ہے جسے روحانی اور ثقافتی طور پر ان کی زندگی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
اس پہاڑ کے ساتھ جڑی ہوئی کہانیاں اور روایات، ماؤری قوم کی تہذیب و تمدن کا حصہ ہیں۔ اس کے برعکس، جب نیوزی لینڈ کے ساحل پر برطانوی بحری جہاز ‘ایچ ایم ایس انویجلی’ کے کپتان جیمز کک نے اس پہاڑ کو 1770 میں دریافت کیا تھا تو اسے ‘ماؤنٹ ایگمنٹ’ کا نام دے دیا گیا جو ایک شدید ثقافتی حملہ تھا۔
یاد رہے کہ 1840 میں ماؤری قوم نے برطانوی حکام کے ساتھ ‘ٹریٹی آف ویٹانگی’ (Treaty of Waitangi) پر دستخط کیے تھے، جس میں ماؤری کو اپنی زمین اور وسائل پر حقوق دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ لیکن اس معاہدے کے بعد ہونے والے اقدامات نے ماؤری قوم کے حقوق کو پامال کیا، اور 1865 میں تاراناکی کے علاقے کی زمین کو جبراً ضبط کر لیا گیا۔
اس قبضے کے نتیجے میں نہ صرف ماؤری کی زمین چھین لی گئی بلکہ ان کے ثقافتی ورثہ کو بھی تباہ کر دیا گیا۔
پچھلی کئی دہائیوں میں ماؤری قوم نے اپنے حقوق کے حصول اور اپنے ورثے کی بحالی کے لیے جدوجہد کی ہے۔ 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں ماؤری احتجاجی تحریک نے اس جدوجہد میں ایک اہم موڑ دیا۔
اس تحریک کے نتیجے میں نیوزی لینڈ کی حکومت نے ماؤری زبان، ثقافت اور حقوق کے حوالے سے کئی قانونی اصلاحات کیں۔
یہ قانون جو 2023 میں تاراناکی کے آٹھ قبائل کے ساتھ کیے گئے معاہدے کا حصہ ہے ماؤری قوم کے لیے ایک تاریخی کامیابی ہے۔
یہ قانون صرف زمین یا قدرتی وسائل کی بازیابی نہیں بلکہ ان کے ثقافتی اور روحانی ورثے کا اعتراف ہے۔
اب جب کہ تاراناکی ماونگا کو قانونی حیثیت حاصل ہو چکی ہے اس کے حقوق کا استعمال اس کی صحت اور فلاح کے لیے کیا جائے گا۔اس کے حقوق کا تحفظ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اس کے خلاف جبراً فروخت، غیر قانونی اقدامات یا اس کی قدیم استعمالات پر پابندیاں نہ لگیں۔
اس کے علاوہ قدرتی جنگلی حیات کے تحفظ اور اس کے قدرتی ماحول کی صفائی کے لیے کام کیے جائیں گے۔
نیوزی لینڈ پہلا ملک ہے جس نے قدرتی عناصر کو انسانی حیثیت دی۔ اس سے پہلے 2014 میں ‘ٹی یوریویرا’ نامی جنگل کو بھی قانونی شخصیت کا درجہ دیا گیا تھا جس کے بعد ‘واہنگانوئی دریا’ (Whanganui River) کو بھی 2017 میں یہی درجہ دیا گیا تھا۔
یہ قانون نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ میں مکمل طور پر متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا۔ پارلیمنٹ کے 123 ارکان نے اس بل کی حمایت کی اور اس موقع پر ماؤری زبان میں ایک نغمہ “وائیاتا” (waiata) گایا گیا جس نے اس تاریخی لمحے کو مزید یادگار بنا دیا۔
یہ قانون صرف ایک پہاڑ یا قدرتی خصوصیت کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ زمین، انسان اور قدرت کے تعلقات کو ایک نئے تناظر میں دیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
تاراناکی ماونگا کا قانونی شخص بننا نہ صرف ماؤری قوم کی فتح ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر بھی قدرتی ورثہ کے تحفظ کی ایک نئی مثال قائم کرتا ہے۔