اپریل 7, 2025 12:38 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

ریگولر بینچ آئینی تشریح نہیں کر سکتا، یہ اختیار صرف آئینی بینچ کو حاصل ہے : جسٹس محمد علی مظہر

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
جسٹس محمد علی مظہر کا 20 صفحات پر مشتمل نوٹ جاری

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے ایک اہم 20 صفحات پر مشتمل نوٹ جاری کیا ہے جس میں آئینی تشریحات اور 26 ویں ترمیم کے بارے میں اپنی رائے دی۔

ان کے مطابق کسی بھی قانون کے آئینی ہونے یا نہ ہونے کا جائزہ صرف آئینی بینچ ہی لے سکتا ہے اور کسی بھی ریگولر بینچ کے پاس آئینی تشریح کا اختیار نہیں ہوتا۔

جسٹس مظہر نے اس بات پر زور دیا کہ آئینی بینچ نے درست طور پر دو رکنی بینچ کے حکمنامے کو واپس لیا ہے۔

ان کے مطابق ترمیم میں سب کچھ کھلی کتاب کی طرح واضح ہے، اور اس پر کسی قسم کی بحث یا ابہام کی گنجائش نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس ترمیم پر آنکھیں اور کان بند نہیں کر سکتے کیونکہ یہ آئین کا حصہ ہے۔

مزید پڑھیں: پشاور میں اسکول ٹیچر نے طلباء کے تنگ کرنے پر پولیس کو درخواست دے دی

اس نوٹ میں جسٹس مظہر نے مزید کہا کہ 26 ویں ترمیم کو کسی بھی صورت میں پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی ختم کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت 26 ویں ترمیم آئین کا ایک حصہ ہے اور اس کے چیلنج کیے جانے کے باوجود اس کی حیثیت تبدیل نہیں ہوئی۔

جسٹس مظہر نے یہ بھی کہا کہ 26 ویں ترمیم پر کی جانے والی درخواست کا فیصلہ فل کورٹ میں کیا جائے گا اور اس کیس کا میرٹ پر فیصلہ ہونا باقی ہے۔

اس کے علاوہ فریقین کو نوٹس بھی جاری کیے جا چکے ہیں، جس کے بعد اس کی آئینی حیثیت پر مزید بحث کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ آئین کی تمام تر تشریحات اور ترمیمات کا جائزہ صرف آئینی بینچ ہی لے سکتا ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی ریگولر بینچ کو اختیار نہیں دیا جا سکتا۔

اس نوٹ نے آئینی ترمیمات اور ان کے جائزے کے عمل کو مزید واضح اور مضبوط بنا دیا ہے جس سے آئین کی سلامتی اور اس کی تشریحات کے حوالے سے نئے اصول مرتب ہو سکتے ہیں۔

اس نوٹ کی اہمیت اس لئے بھی ہے کہ یہ آئینی تشریحات کی درست سمت کو واضح کرتا ہے اور اس پر قانونی حلقوں میں اہم بحث کا آغاز ہو سکتا ہے۔

فاضل جج نے کہا آئینی تشریح کم از کم پانچ رکنی آئینی بینچ ہی کر سکتا ہے، کسی ریگولر بینچ کو وہ نہیں کرنا چاہیے جو اختیار موجودہ آئین اسے نہیں دیتا، دو رکنی بینچ کے ٹیکس کیس میں بنیادی حکم نامے واپس ہو چکے، بنیادی حکم ناموں کے بعد کی ساری کارروائی بےوقعت ہے۔

یاد رہے کہ آئینی بینچ نے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی کے حکم نامے واپس لیے تھے، جسٹس محمد علی مظہر نے آئینی بینچ کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے نوٹ جاری کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں مہنگائی کی کم ترین سطح، حکومتی پالیسیوں کا کامیاب نتیجہ ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس