گرین پاکستان انیشیٹو (جی پی آئی) پروگرام کے ثمرات آنا شروع ہو گئے ہیں۔ پاکستان کے اقتصادی سروے 2023 کے مطابق پاکستان میں زراعت کا شعبہ 22 فیصد سے زائد جی ڈی پی اور 37 فیصد ملازمت کے مواقع فراہم کرتا ہے۔
ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں زرعی اجناس جیسا کہ گندم، دالوں اور آئل سیڈیز کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی دیرینہ مسئلے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پاکستان میں گرین پاکستان انیشیٹو اور جدید کارپوریٹ فارمنگ کو متعارف کروایا گیا۔
گزشتہ سال چولستان میں کامیاب جدید طرز کی فارمنگ تکنیک سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے اب چولستان بیلٹ میں گرین پاکستان انیشیٹو پروگرام کو وسیع کیا جارہا ہے۔
اسی سلسلے میں 14 فروری 2025 کو چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب چولستان بیلٹ کا دورہ کریں گے۔

گرین پاکستان پروگرام کے تحت چولستان بیلٹ کے مقامی کسانوں، زمینداروں اور عوام کے لیے حکومتِ پاکستان اور پاک فوج کے تعاون سے 14 فروری 2025 کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب کنڈائی کے علاقہ میںاسمارٹ ایگری فارم اور گرین ایگری مال کا افتتاح کریں گی، جب کہ چاپو کے مقام پر وزیرِ اعلیٰ اے آر اور ایف سی سینٹر کا افتتاح کریں گی۔
اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ پنجاب زرعی ماہرین، سائنسدانوں، کسانوں، زمینداروں اور مقامی افراد سے خطاب بھی کریں گی۔ علاوہ ازیں ماہرینِ معاشیات اور زرعی ماہرین سمیت مقامی کسانوں اور زمینداروں کی سفارشات کو بھی زیرِ غور رکھا جائے گا۔
گرین پاکستان کا یہ منصوبہ یقیناً چولستان کے پسماندہ علاقہ مکینوں کی زندگی میں انقلاب برپا کرے گا۔ چولستان کا علاقہ جہاں لوگوں کو آمدورفت میں اتنی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا، وہاں اب ایسے عوام دوست زرعی انقلابی منصوبوں کے تحت زندگی یکسر بدل جائے گی۔