“یہ یاجوج ماجوج ہیں” اسرائیلی آبادکاروں کے پانچویں منزل سے بلی نیچے پھینک کر اسے فلمانے کے مناظر وائرل

غزہ میں مہینوں سے جاری جنگ کے دوران صیہونی فوج کی سفاکیت تو سبھی پر عیاں ہو گئی لیکن اب مقبوضہ بیت المقدس میں ایک ایسا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جس نے صیہونیت کی ظالمانہ سوچ کو ایک بار ظاہر کیا ہے۔ یروشیلم سے ایک دل دہلا دینے والی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں اسرائیل آبادکاورں کے ایک گروپ کو پانچ منزلہ عمارت کی چھت سے ایک معصوم بلی کو بے دردی سے نیچے پھینکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ویڈیو دیکھنے والوں کے دلوں کو چیر رہی ہے، اس ظالمانہ امر سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی آبادکاروں کا ایک گروہ ایک معصوم بلی کو اٹھا کر 5 منزلہ بلند عمارت کی چھت پر لے جتا ہے۔ ان میں سے ایک نوجوان بلی کو اٹھا کر کے بے رحمی سے نیچے پھینک دیتا ہے جبکہ باقی اس ظالمانہ حرکت کو اپنے موبائل کے کیمرے سے فلما رہے ہوتے ہیں۔ A group of colonial Israeli settlers took a kitten to the roof of a five-story building, where one of them threw it from that height in occupied Jerusalem. pic.twitter.com/CHhP4RyhB3 — Quds News Network (@QudsNen) January 23, 2025 اس حیوانیت پر قانونی صورتحال تو تاحال واضح نہیں ہے البتہ اس ویڈیو کو متعدد بار دیکھا جا چکا ہے اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردِعمل بھی دیا جا رہا ہے۔ اس افسوسناک واقع کی جاری کردہ ویڈیوز اور تصاویر سے بلی کے ساتھ ہونے والے مبینہ ظلم نے جانوروں کے حقوق (اینمل رائٹس) کے حامیوں کو بھڑکا دیا ہے۔ دوسری جانب انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق حکام نے اس معاملے پر تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے اور نہ کسی شخص کی شناخت ظاہر کی ہے، تاہم مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ حقائق کی تصدیق جاری ہے اور ویڈیو کے حقیقی ثابت ہونے پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر صارفین اس پرتشدد واقع کی بھرپور الفاظ میں مذمت کر رہے ہیں، بعض صارفین نے اس سفاکیت کو ظلم کی انتہا اور غیر انسانی فعل قرار دیا ہے جبکہ بعض نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا انسانوں کے بعد اب اسرائیلی جانوروں پر بھی ظلم ڈھائیں گے۔ این جی اوز اور جانوروں کے حقوق سے متعلق اداروں نے ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ” لوگ ہمیں ان آباد کاروں کے بارے میں ہماری ناقص رائے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جو اب تک روئے زمین کے بدترین لوگ ثابت ہوئے ہیں۔ ان چیزوں کی مقدار جس میں وہ ابھی تک بڑے پیمانے پر فوائد اور مواقع رکھتے ہیں، اس پر کوئی تبصرہ نہیں”۔ جبکہ دوسرے صارف نے لکھا کہ ” کیا ہم انہیں ’آبادکار‘ کہنا بند کر سکتے ہیں، کچھ طے کرنا ایک نرم عمل ہے جس کا مطلب ہے کسی چیز کی حرکت کو آہستہ آہستہ روکنا۔ لوگوں اور جانوروں کو بے گھر کرنے کے لیے تشدد کرنے والے چور ہیں۔ لارسینسٹ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ یا بگڑے ہوئے لارسینسٹ؟” ایک اور صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ” انہیں انسانی بچوں کی پرواہ نہیں تھی، آپ کو لگتا ہے کہ وہ جانوروں کی پرواہ کریں گے؟” ایک اور صارف نے لکھا کہ “یہ ویڈیو صبح سے میری ٹائم لائن پر آ رہی ہے، یہ بہت تکلیف دہ ہے۔ میں بلی کے بچے کے لیے اور اپنی بلیوں کو گلے لگا کر اللہ سے دعا کرتی رہی کہ وہ سب کو سلامت رکھیں۔ اسرائیلی یاجوج ماجوج ہیں، وہ سب کو مارتے ہیں”۔ ایک صارف نے حیران کن تبصرہ کیا کہ “میں جانتا ہوں کہ بلی کا بچہ ابھی بھی زندہ ہے” جبکہ دوسرے صارف نے تنزیہ انداز اپناتے ہوئے لکھا کہ “آپ دیکھتے جائیں یہ اب مرغیوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں”۔ اس واقعہ نے ایک بار پھر سے جانوروں کے تحفظ اور حقوق کے حوالے سے تشویش کو جنم دیا ہے، اس طرح کے واقعات نہ صرف ظلم و ستم کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ معاشرے کی بے حسی کے بڑھتے رجحان کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ یہ افسوسناک واقع ایک یاد دیہانی ہے کہ انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کے تحفظ کے لیے سخت قوانین بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس طرح کے واقعات صرف قانونی کارروائی سے ختم نہیں ہوں گے بلکہ عوامی شعور اور حساسیت پیدا کرنا ناگزیر ہے۔
طلبہ يونينز كی بحالی کیوں ضروری ہے؟نائب امیر جماعت اسلامی کابیان

نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ طلبہ یونینز کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ یہ نہ صرف نوجوانوں کو جمہوری تربیت فراہم کرتی ہیں بلکہ انہیں ملک کے مستقبل کے لیے تیار کرنے کا ایک مضبوط ذریعہ بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مریم نواز اور دیگر سیاسی شخصیات یونیورسٹیز میں جا کر سیاسی گفتگو کر سکتی ہیں، تو طلبہ کو بھی یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنی قیادت کا انتخاب کریں اور اپنے مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کریں۔ لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ 18 سال کا نوجوان جب قومی انتخابات میں اپنا ووٹ ڈالنے کا اہل ہے، تو پھر اسے تعلیمی اداروں میں اپنی قیادت منتخب کرنے سے محروم رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک منظم سازش ہے کہ نوجوان نسل کو ان کے جمہوری حقوق سے محروم رکھا جائے، انہیں چھوٹے مسائل میں الجھا دیا جائے، اور ان کے درمیان تقسیم پیدا کی جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ طلبہ یونینز کو سیاسی جماعتوں کے اثر سے آزاد رکھنے کے لیے مؤثر قوانین اور ضوابط وضع کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں طلبہ یونینز کے خلاف جو پروپیگنڈا کیا گیا اور ان پر تشدد، جھگڑوں اور مسائل کا الزام لگایا گیا، وہ حقیقت سے زیادہ مفروضات پر مبنی تھا۔ مسائل کا حل یہ نہیں کہ طلبہ کے جمہوری حقوق کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ ان کے لیے ایک مثبت اور منظم پلیٹ فارم مہیا کیا جائے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ طلبہ یونینز کی بحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں اور نوجوانوں کو قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کریں۔ ان کے بقول، طلبہ یونینز نہ صرف جمہوری تربیت کا ذریعہ ہیں بلکہ نوجوانوں کو قیادت کی صلاحیتیں سکھانے کا ایک اہم پلیٹ فارم بھی ہیں، جو مستقبل میں ایک مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
ایف آئی اے کریک ڈاؤن، انٹرنیشنل ایکٹیو سمز کے ذریعے مجرمانہ سرگرمیاں کرنے والا گینگ گرفتار

انٹرنیشنل ایکٹیو سمز کے ذریعےلوگوں کو بلیک میل اور فراڈ کرنے کا رحجان بہت زیادہ بڑھ گیا ہے آئے روز ایک نئی خبر سننے کو ملتی ہے کہ فلاں بندے کے ساتھ فارڈ یا سکیم ہو گیا، اس طرح کےفراڈ میں زیادہ تر وہ لوگ شکار ہوتے ہیں جو رواں دور میں ہونے والے سائبر کرائم سے بلکل نہ واقف ہوتے ہیں۔ سائبر کرائم کی سہنکڑوں مثالیں ہیں جنہیں انٹرنیشنل نمبرز سے دھمکیاں، فراڈ، اور بلیک میلنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ سب کچھ ممکن ہو رہا ہے انٹرنیشنل ایکٹیو سمز کے ذریعے، جو پاکستان میں غیر قانونی طریقے سے اسمگل ہو کر بھتہ خوری اور مالی جرائم کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔ انٹرنیشنل ایکٹیو سمز وہ موبائل سمز ہیں جو بیرون ملک جاری ہوتی ہیں اور ان کا استعمال بین الاقوامی کالز اور انٹرنیٹ سروسز کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ سمز پاکستان میں غیر قانونی طور پر اسمگل کی جاتی ہیں اور مقامی مجرم ان کا استعمال شناخت چھپانے اور قانون سے بچنے کے لیے کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے) نے ایک مراسلے کے ذریعے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو آگاہ کیا کہ برطانیہ میں مقیم بعض افراد مسافروں کے ذریعے انٹرنیشنل ایکٹیو سمز پاکستان بھجوا رہے ہیں۔ ان سمز کا استعمال غیر قانونی مقاصد کے لیے کیا جا رہا تھا۔ فیڈرل انوسٹیگیٹواٹھارٹی ( ایف آئی اے )نے لاہور کی شاہ عالم مارکیٹ میں ایک کامیاب آپریشن کیا اور چار افراد کو گرفتار کیا۔ گرفتار ہونے والوں میں سعد اشفاق، محمد عاطف، شعیب حیدر، اور جمشید حیدر شامل ہیں۔ ان کے قبضے سے سینکڑوں انٹرنیشنل ایکٹیو سمز برآمد ہوئیں، جنہیں مختلف جرائم میں استعمال کیا جا رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے ان مجرموں سے سینکڑوں انٹرنیشنل ایکٹیو سمز، متعدد موبائل فونز، متاثرین کو کی جانے والی کالز کی ریکارڈنگ اور مجرمانہ سرگرمیوں سے متعلق دیگر شواہد برآمد کیے۔ یہ لوگ اپنے مختلف ذرائع سے برطانیہ کی انٹرنیشنل ایکٹیو سمز کو منگوا کر پاکستان میں مخصوص سم ڈیلرز کو فروخت کر دیتے تھے ، جو انہیں غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتے تھے۔یہ سمز شناخت چھپانے اور بین الاقوامی کالز کے لیے استعمال کرتے تھے، جس سے مجرموں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچنا آسان ہو جاتا تھا۔ انٹرنیشنل ایکٹیو سمز کو مختلف قسم کے جرائم میں استعمال کیا جاتا ہے، جن میں متاثرین کو بین الاقوامی نمبرز سے کال کر کے پیسوں کا مطالبہ کیا جاتا ،جعلی آن لائن ٹرانزیکشنز اور ای کامرس کے ذریعے لوگوں سے پیسہ بٹورا جاتا اور ان سمز کا سب سے بڑا فائدہ بلیک میلر اپنی شناخت چھپانے کے لیے کرتے ہیں۔ پاکستان میں انٹرنیشنل ایکٹیو سمز کے استعمال کو روکنے کے لیے موجودہ قوانین ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اس نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے بہت سے مسائل درپیش ہیں ، جن میں سائبر کرائم ونگ کے پاس جدید ٹولز اور وسائل کی کمی ،موجودہ سائبر کرائم قوانین میں انٹرنیشنل سمز کے غیر قانونی استعمال پر خصوصی توجہ نہ دینا،شہری انٹرنیشنل کالز اور دھوکہ دہی کی شناخت نہ کر پانا شامل ہیں۔ ان ایکیٹیو سمز سے متاثرین کے مطابق ان سائبر جرائم نے ان کی زندگی پر گہرے اثرات ڈالے ہیں ،لاہور کے ایک تاجر نے بتایا کہ انہیں برطانیہ کے ایک نمبر سے کال آئی، جس نے بھتہ دینے کا مطالبہ کیا ،ایک اور متاثرہ خاتون نے کہا کہ ان کی ذاتی معلومات استعمال کر کے جعلی ٹرانزیکشنز کی گئیں، جس سے انہیں مالی اور ذہنی نقصان اٹھانا پڑا۔ دیگر ممالک میں انٹرنیشنل سمز کے غلط استعمال کے خلاف سخت قوانین نافذ ہیں، اور مجرموں کو سخت سزائیں دی جاتی ہیں، انڈیا میں غیر قانونی سمز کے استعمال پر بھاری جرمانے اور 7 سال قید کی سزا دی جاتی ہے، یورپئن ممالک میں بین الاقوامی سمز کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور اداروں کے درمیان تعاون یقینی بنایا جاتا ہے۔ ماہرین اور حکام کے مطابق اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے چند اقدامات کی ضرورت ہے جن میں سائبر کرائم قوانین میں ترامیم کی جائیں، جس میں انٹرنیشنل سمز کے غیر قانونی استعمال پر سخت سزائیں شامل ہوں ،ایف آئی اے اور پی ٹی اے کو جدید نگرانی کے آلات فراہم کیے جائیں۔ سائبر کرائم کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ شہریوں کو بین القوامی کالز اور مشکوک سرگرمیوں کی شناخت کے لیے آگاہی مہمات چلائی جائیں،بیرون ملک مقیم نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کے لیے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کیا جائے۔ انٹرنیشنل ایکٹیو سمز کے ذریعے ہونے والے جرائم نے پاکستان میں سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ حکومت، ادارے، اور عوام کو مل کر ان جرائم کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی تاکہ مجرموں کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔
ٹرمپ کو سعودی عرب سے ‘ڈو مور’ کی امید، سرمایہ کاری پیکج ایک ٹریلین ڈالر کرنے کا مطالبہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کی جانب سے سرمایہ کاری پیکج بڑھا کر 600 ارب ڈالر کرنے کی خبر سامنے آنے کے ایک روز بعد ہی اسے مزید بڑھا کر ایک ٹریلین ڈالر کرنے کے مطالبہ نما توقع کا اظہار کیا ہے۔ ڈیووس میں جاری عالمی اقتصادی فورم سے ویڈیو لنک کے ذریعے کیے گئے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب سے کہوں گا کہ وہ امریکا میں سرمایہ کاری پیکج کو ایک ٹریلین تک بڑھائیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے تعلقات ایسے رہے ہیں کہ وہ اس مطالبے کو ضرور مانیں گے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ سعودی عرب اور تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک سے توقع کرتے ہیں کہ وہ تیل کی قیمتیں کم کریں گے۔ یاد رہے کہ ایک روز قبل رپورٹ سامنے آئی تھی کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے صدر منتخب ہونے کے بعد مبارکباد کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا جس میں امریکا میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری کو بڑھا کر 600 ارب ڈالر کرنے کا کہا تھا۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی حلف کے پہلے روز جاری کردہ اپنے ایگزیکٹو آرڈرز کی وجہ سے مشکل میں ہیں۔ جمعرات کو ایک امریکی عدالت نے ان کے اس حکم نامے کو معطل کر دیا ہے جس میں نئے صدر نے امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کی شہریت کا سلسلہ منقطع کرنے کی ہدایت کی تھی۔ خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی اور بھارتی سفارتکار فروری میں انڈین وزیراعظم نریندرا مودی اور ٹرمپ کی ملاقات کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ نیو جرسی میں انڈین خواتین بچوں کی قبل از وقت ولادت کے لیے طبی مراکز میں خود کو رجسٹرڈ کروا رہی ہیں تاکہ بچوں کی شہریت منسوخی کے اطلاق سے قبل ولادت کے عمل سے گزر سکیں۔ امریکا کی امیگریشن سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کے بعد اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے یہ تبدیلی غیرقانونی طور پر امریکا میں مقیم انڈینز کو بھی متاثر کریے گی۔
ٹرمپ کادوسرادورحکومت:کیا امریکا پاکستان میں دلچسپی نہیں لےگا؟

ٹرمپ کے دوسرے دور حکومت میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی نوعیت اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔ کیا امریکا پاکستان سے لاتعلق ہو جائے گا؟ ماضی میں دہشت گردی کے الزامات اور پاکستان کے کردار کو لے کر امریکا کی پالیسی کیا ہوگی؟ ٹرمپ اور عمران خان کی دوستی اور تعلقات کو صرف ایک مخصوص مدت تک محدود رکھنے کا کیا امکان ہے؟ کیا امریکی حکومت پاکستان کو اہمیت دے گی یا اس کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ جمود میں ڈالے گی؟ اس سوال کا جواب امریکا کی پاکستان کو دی جانے والی ترجیحات اور شرائط کے تحت ملے گا، جو خطے میں امن و استحکام، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اقتصادی تعلقات سے جڑے اہم امور پر منحصر ہوں گی۔ اس ڈسکرپشن میں ان تمام نکات پر تفصیل سے روشنی ڈالی جائے گی تاکہ پاکستان اور امریکا کے مستقبل کے تعلقات کا جائزہ لیا جا سکے۔
” پنجابی اور بلوچی بعد میں پہلے پاکستانی ہیں” ریزیڈنشل کالج لورا لائی کے طباء کی وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات

بلوچستان ریزیڈنشل کالج لورا لائی کے 50رکنی طلبہ کے وفد نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے ملاقات کی۔ مریم نواز کی طرف سے طلبہ کو ڈبل ڈیکر بس پر لاہور کی سیر کروائی گئی اور بہترین ہوٹل میں دوپہر کے کھانے کا اہتمام کیا گیا، مزید براں وزیر اعلیٰ پنجاب نے طلبہ کو تحفے میں لیپ ٹاپ میں دیے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے طلبا کے وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد بلوچستان آکر طلبہ کو ہونہار سکالرشپ دینا چاہتی ہوں، بس چلے تو پنجاب سے زیادہ سکالر شپ اور لیپ ٹاپ بلوچستان کے طلبہ کو دوں۔ کافی عرصے سے بلوچستان کے طلبہ کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ ہر پاکستانی کی طرح میرے دل میں بھی بلوچستان کے لئے بہت محبت ہے، بلوچستان پاکستان کے لئے جانیں دینے والے شہداء کی سرزمین ہے، بلوچستان کے بچے کسی سے کم نہیں اور موافق حالات ملیں تو سب سے آگے بڑھیں گے۔ میں جتنا پنجاب کے بچوں کے بارے میں سوچتی ہوں اتنی ہی فکر بلوچستان سمیت دیگر صوبے کے بچوں کے لئے بھی ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا بلوچستان میں فعال ہونا افسوسناک اور تکلیف دہ ہے۔ دہشت گرد خود باہر رہتے ہیں، بچے بھی باہر رکھتے ہیں اور دوسروں کے بچوں کو ورغلا کر مرواتے ہیں۔ ہم پنجابی اور بلوچی بعد میں ہیں پہلے پاکستانی ہیں۔ مریم نواز نے پنجاب میں ہونہار سکالرشپ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت 3 لاکھ سے کم آمدن والے 30 ہزار بچوں کو ہونہار سکالر شپ دے رہی ہے۔ 30 ہزار میں سے ایک بھی سکالر شپ سفارش پر نہیں دی گئی، سکالر شپ دیتے ہوئے کسی سے نہیں پوچھا گیا کہ تعلق کس جماعت سے ہے۔ نہ صرف لاہور میں سکالر شپس دی گئی ہیں بلکہ پنجاب کی 9 ڈویژن میں جا کر خود بچوں کو سکالر شپس دی ہیں۔ ہونہار سکالرشپ کی تقریب میں جو اپنائیت اور محبت طلبہ کی طرف سے ملی سب خواب سا لگتا ہے۔ طلبہ کی طرف سے ملنے والی محبت اور پیار کو مخالفین نے ڈرامہ قرار دیا۔ ہونہار سکالر شپ میں انڈرگریجوایٹ پروگرامز کے سکینڈ ائیر اور تھرڈ ائیر کے طلبہ کو بھی شامل کیا جارہا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ فری میڈیسن، ڈائلیسز کارڈ اور صحت کی دوسری سہولتوں سے بلوچستان کے لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ سرگودھا میں پہلا نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی بننے سے کے پی کے کے لوگ بھی مستفید ہو سکیں گے اور ائیر ایمبولینس سروس سے پنجاب ہی نہیں دوسروں صوبوں کو بھی خدمات مہیا کررہے ہیں۔ مریم نواز نے مزید کہا کہ پنجاب اور بلوچستان کو آبادی کے لحاظ سے فنڈز ملتے ہیں۔ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، ہمارے اتنے وسائل نہیں لیکن ریونیو بڑھا کر عوام پر خرچ کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے بلوچستان کے طالب علموں کے وفد کے لیے اپنا قیمتی وقت نکال کر طالب علموں کو وقت دیا اور ان کے لیے لاہور کی سیر کرنے کے لیے مناسب اقدامات کیے۔ دوسری جانب بلوچستان سے آئے طالب علموں نے پنجاب حکومت کی مہمان نوازی کو سراہا اور پنجاب حکومت کے پروجیکٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے حالات دیکھ رشک آتا ہے، کاش ہمارا صوبہ بھی ایسا ہوتا۔ پنجاب میں وزیراعلی مریم نواز شریف عوام کے لئے شاندار پراجیکٹ لارہی ہیں اور وزیراعلی مریم نواز شریف کے پنجاب میں تعلیم حاصل کرنا ہماری خواہش ہے۔
“اسلام آباد پر چڑھائی حلال اور اپنے حق کے لیے نکلنا حرام” خیرپختونخوا میں احتجاج کرتے سرکاری ملازمین پر پولیس کی شیلنگ

خیبر پختونخواں حکومت کی طرف سےسرکاری ملازمین کی پنشن میں اصطلاحات کرنے کی وجہ سے پشاور میدان جنگ بن گیا،اصطلاحات کر نے کی وجہ سے ملازمین کا صوبائی اسمبلی کے باہر دوسرے روز سے دھرنا جا رہی ہے۔ حکومت اور آل گورنمنٹ ایمپلائز کوارڈینیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہونے کی وجہ سے پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ملازمین پر شیلنگ کر دی۔ نجی ٹی وی چینل مشرق نیوز پشاور کے مطابق آل گورنمنٹ ایمپلائز کوارڈینیشن کے رہنماؤں کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری ، اس دوران سرکاری ملازمین سٹی نمبر 1 سکول سے نکل کر اسمبلی چوک پہنچنا شروع ہوئے، مظاہرین کا کہنا تھا کہ پینشن اصلاحات کے نام پر ہمارے بچوں کے ساتھ ظلم کیا جا رہا ہے ، ہمارے ساتھیوں کو رات گئے گرفتار کیا گیا جوکہ سراسر ظلم ہے. احتجاج کرتے ہوئے مظاہرین نےخیبر روڈ کو یکطرفہ بند کر دیا اور دوسری جانب اس موقع پر اسمبلی چوک میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔ اپنے مطالبات کے حق میں سرکاری ملازمین کے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے شیلنگ کی گئ۔ پشاور میں ملازمین کی طرف سے جاری احتجاج کے حوالے سے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس ( سابقہ ٹویٹر) پر لوگوں نے تصاویر اور ویڈیو شئیر کی اور سرکاری ملازمین کے احتجاج کے حوالے سے تبصرے کیے۔ ایک صارف نے کے پی کے حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے لکھا کہ “کرپٹ گنڈاپور حکومت کا پرامن ملازمین پر شیلنگ ۔ آج پشاور میں پرامن سرکاری ملازمین جو کہ ریاست کا ایک حصہ ہے ان پر شیلنگ آنسو گیس ظلم و بربریت کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔ نااہل پی ٹی آئی حکومت نے صوبے کے آمن و امان کا ستیاناس کر دیا”۔ ایک صارف نے مظاہرین کی ویڈیو کو اپلوڈ کی، جس میں مظاہرین کے پی کے حکومت کے کلاف نعرے لگا رہے تھے ” کہ ہم مر جائیں گے لیکن بھاگیں گے نہیں۔ مظاہرین کا لاؤڈ سپیکر پر اعلانات ۔۔ پختونخونخواہ حکومت کا ظلم جاری پشاور پنشن اصلاحات کیخلاف سرکاری ملازمین کا احتجاج شیر شاہ سوری پل کے قریب مظاہرین پر پولیس کی شیلنگ پولیس کی بھاری نفری شیر شاہ سوری پل اورقلعہ بالا حصار کے سامنے مظاہرین پر بدترین شیلنگ کر رہی ہے”۔ ایک صارف نے کے پی کے حکومت پر “تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نااہل اور نالائق ترین صوبائی حکومت کو شیلنگ، تشدد اور گولی چلانا تب یاد آتا ہے جب ایک مجرم کیلئے اسلام آباد پر چڑھائی کرتی ہے لیکن جب سرکاری ملازمین اپنے حق کیلئے آواز اٹھاتے ہیں تو ان سے مذاکرات کی بجائے ان پر شینلگ کی جاتی ہے، گرفتار کیا جاتا ہے۔ سرکاری ملازمین پر تشدد کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پنشن اصلاحات کے حوالے سے ملازمین کے خدشات دور کئے جائیں اور وزیراعلیٰ جرات کرکے ملازمین سے معافی مانگے۔” ۔ صارف نے لکھا کہ ” یہ کس کے حکم پر کیا گیا؟؟؟ پشاور،احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف خیبرپختونخوا پولیس کا کریک ڈاؤن، متعدد سرکاری ملازمین گرفتار”۔ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ ” پی ٹی آئی ملک بھر خصوصاً وفاق اور پنجاب میں فتنہ فساد پھیلانا ریاست پر مسلح حملے اپنا حق سمجھتی ہے لیکن پشاور میں 1 لاکھ ٹیچرز جن میں مرد و خواتین ٹیچرز شامل ہیں کے پرامن احتجاج پر وزیراعلی علی امین گنڈا پور کے حکم پر تشدد شروع کر دیا گیا ہے۔” ایک اور صارف نے پی ٹی آئی کے احتجاج کےحوالے سے کہا کہ “کے پی کے سرکاری ملازمین پر پینشن اور دیگر مراعات کے حق میں پرامن احتجاج کے دوران لاٹھی چارج، شیلنگ اور گرفتاریوں کی مذمت کرتےہین۔ وزیراعلیٰ کا احتجاج جائز اور ملازمین کا ناجائز کیوں؟ وزیراعلیٰ واقعے کا نوٹس لیں، ذمہ داروں کو سزا دیں، اور ملازمین کے آئینی مطالبات پورے کریں” ایک صارف نے وزیر اعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے لکھا کہ علی امین گنڈاپور سرکار نے سرکاری ملازمین پر پشاور میں لاٹھی چارج شروع کر دیا ۔ خود اسلام آباد پر چھڑائی کیلئے نکل جاتے ہیں تو وہ حلال احتجاج اور جب صوبہ پختونخوا کے سرکاری ملازمین اپنے حق کے لئے نکلے تو ان کا احتجاج حرام ۔ سوشل میڈیا پر صارفین کی طرف سے خیبر پختونخواں حکومت پر تنقیدی تبصرے دیکھنے کو ملے، لوگوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت بانی کو رہا کرانے کے لیے درالحکومت اسلام آباد کو بند کر دیتی ہے اور اب اگر سرکاری ملازمین اپنے حق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں تو انھیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کہ کسی بھی صورت میں قبل قبول نہیں ہے۔
“یہ برطانویوں کو اسلام سے بچنے نہیں دیں گے” نماز پڑھتے مسلمانوں پر برطانوی انتہاپسندوں کا اعتراض

مغربی دنیا میں اسلام کے خلاف تشدد اور تعصب کا رویہ پایا جانا ایک عام بات ہے، لیکن اب سوشل میڈیا کے اس دور میں اسلام مخالف کمپینز بھی چلائی جارہی ہیں جن کا مقصد مذہبی عقائد اور تعلیمات کے بارے میں شکوک و شہبات پیدا کرنا اور غیر مسلم افراد کو اسلام سے دور رکھنا ہے۔ ایسا ہی واقع سکاٹ لینڈ کے سب سے بلند پہاڑ ‘بین نیوس’ پر پیش آیا ہے جہاں بڑی تعداد میں مسلمان نماز ادا کر رہے تھے اور انتہا پسند انہیں نفرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ‘برٹن فرسٹ’ نامی اکاؤنٹ سے ویڈیو شیئر کی گئی جس میں ‘بین نیوس’ پہاڑ پر چند مسلمان نماز ادا کر رہے ہیں اور اردگرد بڑی تعداد میں لوگ کھڑے نفرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے نمازیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ‘برٹن فرسٹ’ نامی اکاؤنٹ سے شیئر ہونے والی اس ویڈیو کی کیپشن میں لکھا کہ ” یہ سب غلبے کی بات ہے، برطانیہ میں 3 ہزار سے زائد مساجد موجود ہیں جن میں وہ (نماز کے لیے) جا سکتے ہیں، ہمارے شہروں کی عوامی گلیاں قابو میں کر لینا کافی نہیں، انہیں برطانوی دیہی علاقوں پر بھی قبضہ کرنا ہے، یہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک برطانوی عوام اسلام پسندی سے بچ نہ سکیں”۔ This is all about dominance. There are over 3000 mosques in Britain they can choose from. Taking over the public streets of our cities isn’t good enough, they have to take over the British countryside too. They won’t rest until British people can’t escape from Islamism. pic.twitter.com/TGqJb1mtHS — Britain First (@BFirstParty) January 21, 2025 اسی ٹوئٹ کو بشریٰ شیخ نامی پاکستانی صآرف نے دوبارہ شیئر کیا اور کیپشن میں لکھا کہ “یہ کامل ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے، برطانوی مسلمان خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، پھر ایک لمحے کے لیے رک کر اللہ کا شکر ادا کررہے ہیں، پرامن نمازیوں سے تو شیطان ہی پریشان ہوتا ہے”۔ اس ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا کہ ” ہر کسی کو چاہیے کہ وہ اپنے مقامی فٹبال کلب سے رابطہ کرے اور پوچھے کہ اس سال ایسٹر کی تقریب اسٹیڈیم میں کب منعقد ہو رہی ہے، پھر جب وہ جواب دیں کہ ایسی کوئی تقریب نہیں ہو رہی، تو آپ اگلا سوال یہ کر سکتے ہیں کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو رمضان میں اسٹیدیم میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دے رہے؟” اس پر ایک صارف نے جواب میں کہا کہ “بھائی اگر آپ چاہو تو ایسٹر کی تقریب کے لیے اسٹیڈیم بُک کر سکتے ہو”۔ اس جواب پر اسی صارف نے دوبارہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مقامی مسجد والے اسٹیڈیم بک نہیں کرتے بلکہ فٹبال کلب انہیں مفت میں دعوت دیتے ہیں”۔ اس ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک اور صارف نے لکھا کہ “میں ایک مرتبہ برطانیہ کے سب سے بلند پہاڑ، بین نیوس، پر چڑھنے گیا، جب میں آدھے راستے پر ایک آبشار تک پہنچا تو وہاں بڑی تعداد میں غیر ملکی لوگوں کو دیکھا جو ہر جگہ عبادت کر رہے تھے، مجھے اپنے ملک سے محبت ہے اور اسے ایسی حالت میں دیکھنا ہمارے دلوں پر گہرا اثر ڈالتا ہے، یہ دیوانگی روکنے اور دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کا وقت ہے”۔ ایک صارف نے ناقدین پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ “اوہو یہ تو واقعی بہت خوفناک بات ہو گئی کہ لوگوں کو اپنی عبادت پرامن طریقے سے کرتے ہوئے آپ کو دیکھنا پڑا، اب آپ اس صدمے کا سامنا کیسے کریں گے؟” ایک صارف نے اس پر جواب میں لکھا کہ “تمام دہشت گرد تنظیمیں مسلمانوں کی ہیں” اسی صارف نے اس جوابی جملے پر لکھا کہ ” آپ بیوقوف ہیں”۔ ایک اور صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ “یہ بالکل بھی ٹھیک نہیں، میں اس سے متفق ہوں، یہ غلبے کی بات ہے، آپ جانتے ہیں کہ یہ خوبصورت منظر کیوں ہے؟ کیونکہ یہ تیسری دنیا سے اچھوت ہے، افسوس کہ یہ بدل جائے گا، تیسری دنیا درآمد کریں اور تیسری دنیا بنیں”۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ” کیا ہمیں برطانیہ میں مسلمانوں کی عبادت کو برداشت کرنا چاہیے جبکہ کئی مسلم ممالک میں غیر مذہبی خیالات یا عقائد کا اظہار محفوظ نہیں؟ ایک غیر مذہبی شخص کے طور پر میں اس رویے اور مساوی آزادی پر سوال اٹھاتا ہوں”۔ ایکس پر جاری یہ بحث مختلف خیالات اور عقائد کے ٹکراؤ کو ظاہر کرتی ہے، کچھ افراد عوامی مقامات پر مذہبی رسومات کو برداشت کرنے میں ہچکچاہٹ کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ کچھ کھلے دل سے اس کی حمایت کر رہے ہیں، تاہم برطانیہ جیسے آزاد اور متنوع معاشرے میں مذہبی آزادی اور رواداری بنیادی اصول ہیں جنہیں برقرار رکھنا ضروری ہے۔ سب کے لیے برابری اور احترام ہی حقیقی ہم آہنگی کی بنیاد ہے۔ اب قابلِ غور امر یہ ہے کہ برطانوی حکومت کس طرح سوشل میڈیا پر چلتے بحث و مباحثے کو کنٹرول کرتی ہے۔
غذائیت سے بھرپورسبزیاں اب گھر میں اگانا ہوا آسان!لیکن کیسے؟

اپنے گھر کو تازگی اور زندگی سے بھرپور بنانے کا بہترین طریقہ سبزیاں اگانا ہے۔ اپنی جگہ کو ایک چھوٹے سے باغ میں تبدیل کریں اور قدرت کے قریب ہونے کا لطف اٹھائیں۔ تازہ سبزیوں کی خوشبو نہ صرف آپ کے کھانے کا ذائقہ دوبالا کرے گی بلکہ آپ کی روزمرہ کی زندگی میں خوشی اور سکون کا اضافہ بھی کرے گی۔ یہ عمل نہ صرف آپ کے ماحول کو خوبصورت بنائے گا بلکہ آپ کو یہ فخر بھی دے گا کہ آپ اپنی خوراک خود اگا رہے ہیں۔ سبزیاں اگانا صرف ایک شوق نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی ہے جو صحت، سکون اور خود انحصاری کی علامت ہے۔ اپنے ہاتھوں سے بوئے بیج اور ان کی نشوونما دیکھنا ایک ایسا تجربہ ہے جو دل کو خوشی اور اطمینان سے بھر دیتا ہے۔ قدرت کے اس حسین تحفے کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں !
مذاکرات کے 3 دور ناکام ، پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کیوں کامیاب نہ ہو سکے؟

پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان 3 دورمیں مذاکرات ہو چکے ہیں ۔ان مذاکرات میں تیسرا اور آخری دور گزشتہ ہفتے میں ہوا، جس میں پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے تحریری مطالبے جمع کرائے گئے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے تیسرے دورمیں پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے 9 مئی اور 26 نومبر والے سانحے پر عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔کمیشن بنانے کے لیے پی ٹی آئی کی طرف سے حکومت کو ایک ہفتہ کا وقت دیا گیا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین بیرسٹر گوہر نے بانی پی ٹی آئی سے آڈیالا جیل میں ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کیے جائے ۔ پی ٹی آئی کی طرف سے مذاکرات کمیٹی کو ایک ہفتے کا وقت دیا تھا ، جس پر حکومت کی طرف سے کوئی رد عمل نہیں آیا ۔ چئیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے مذاکرات حکومت کے ساتھ کامیاب ہوں لیکن شاہد سیاسی اختلافات اتنے زیادہ ہیں کہ برف پگھل ہی نہیں رہی۔ یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان 3 دور میں مذاکرات ہوئے ہیں۔ پہلا دور 23 دسمبر 2024 کو اسپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں ہوا،جس میں حکومت کی طرف سے نامزد کردہ مذاکراتی کمیٹی کے تقریباً تمام اراکین اس اجلاس میں موجود تھے تاہم دوسری جانب پی ٹی آئی کی طرف سے صرف تین اراکین اسد قیصر، صاحبزادہ حامد رضا اور راجہ ناصر عباس شامل تھے۔ 23 دسمبر کو ہونے والا اجلاس سازگار ماحول میں ہوا اور دونوں اطراف نے بات چیت کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں کمیٹیوں کی طرف سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پی ٹی آئی اگلے دور میں تحریری طور پر مطالبات حکومت کو جمع کرائے گی۔ 2 جنوری کو پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ہو ا، اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تحریک انصاف اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرے گی، جس پر حکومت کی طرف سے چارٹر آف ڈیمانڈ کی روشنی میں اپنا لائحہ عمل اپنایا جائے گا۔ 16 جنوری کو مذاکرات کا تیسرا دور ہوا ،جس میں تحریک انصاف نے 9 مئی اور 26 نومبر پر عدالتی کمیشن بنانے کے لیے تحریری مطالبات جمع کرائے تھے اور تحریک انصاف نے ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دی تھی۔ تیسرا دور ان دنوں ہوا جب مختلف طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھی کہ شاید حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ڈیل ہو رہی ہے، ان قیاس آرائیوں کو پیر کے روز اس وقت تقویت ملی جب عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ تیسری بار موخر کر دیا گیا تھا ۔ تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے پیر کو اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ عدالتی فیصلے میں تاخیر سے اگر یہ تاثر لیا جائے کہ کوئی ڈیل ہو رہی ہے اس لیے اس فیصلے کو بار بار موخر کیا جاتا ہے تو یہ بالکل غلط ہے، ہماری حکومت کے ساتھ کوئی بھی ڈیل نہیں ہو رہی۔ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بار بار مؤخر ہونے کے باوجود عمران خان کو 17 جنوری کو 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ ان قیاس آرائیوں کا نتیجہ نہ نکل سکا اور عمران خان کو سزا دے دی گئ۔ چئیرمین بیرسٹر گوہر مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے آج تک کوئی اعلان نہیں ہوا لہذا عمران خان نے مذاکرات ختم کر دیے ہیں۔ بانی نے کہا ہے کہ اس کے بعد ہمارے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ حکومت نے سات دنوں کے اندر عدالتی کمیشن بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن حکومت اس میں ناکام رہی۔ چئیرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ اگر عدالتی کمیشن کا اعلان نہ کیا گیا تو مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر تین ججوں پر مشتمل کمیشن بنایا جائے تو مذاکرات ممکن ہیں ورنہ حکومت کے ساتھ ہم مذاکرات نہیں کر سکتے۔ واضح رہے کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذکرات کوماہرین کی طرف سے خوش آئیند کہا جا رہا تھا کیونکہ حکومت اور پی ٹی آئی دونوں کی طرف سے مذاکرات کے لیے کوئی راہ نظر نہیں آ رہی تھی اور پی ٹی آئی کی طرف سے واضح کہا جاتا تھا کہ اگر ہم مذاکرات کرے گےتو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کریں گے ورنہ ہم کسی کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گے۔