چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کہتے ہیں کہ یہ طے یہ پایا ہے کہ حکومتی اور اپوزیشن وفود کل اسپیکر قومی اسمبلی کے دفتر میں ملاقات کریں گے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی خبر ہے، مگر پاکستانی سیاست کے تناظر میں دیکھیں تو یہ پیش رفت کئی سوالات کے ساتھ آئی ہے۔
حالیہ ہفتوں میں خیبرپختونخوا کی صورتحال کشیدہ رہی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 4 اکتوبر کو لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، جس پر پارٹی کے اندر ہی تقسیم کے آثار نمایاں ہوئے۔ پارٹی کے سینئر رہنما شوکت یوسفزئی نے قیادت کو خط لکھ کر خدشات کا اظہار کیا، جس پر انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ وہ ایک لائیو پروگرام میں جذباتی ہو کر رو پڑے۔
یہ اندرونی اختلاف ظاہر کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر سڑکوں پر نکلنے اور میز پر بیٹھنے، دونوں آپشنز پر مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا وقت خاصا اہم ہے۔ یہ پارٹی کے اندرونی دباؤ کو دیکھتے ہوئے دیا گیا ایک حساب کتاب شدہ قدم بھی ہو سکتا ہے، جو لانگ مارچ کی شدت کم کرنے یا اسے مؤخر کرانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی یہ کہانی نئی نہیں۔ ماضی میں بھی کئی بار ملاقاتیں ہوئیں، کمیٹیاں بنیں، ڈیڈ لائنز دی گئیں، اور بالآخر معاملہ ’جوڈیشل کمیشن‘ یا ’بانی سے ملاقات‘ جیسے بنیادی مطالبات پر اٹک کر رک گیا۔ ایک طرف حکومتی وزراء مذاکرات کے لیے ’سنجیدہ تجاویز‘ کی شرط رکھتے رہے ہیں، تو دوسری طرف پی ٹی آئی رہنما بارہا یہ مؤقف دہراتے رہے کہ ’بے اختیار لوگوں سے بات کرنے کا فائدہ نہیں’۔ ایک ایسا جملہ جو خود وزیراعلیٰ سہیل آفریدی حال ہی میں دہرا چکے ہیں۔
اس پس منظر میں یہ سوال فطری ہے کہ کیا کل کی ملاقات پچھلے ادوار سے مختلف نتیجہ دے گی، یا یہ بھی ایک اور ’ابتدائی نشست‘ ثابت ہو گی جو چند ہفتوں بعد تعطل کا شکار ہو جائے گی؟
یہ بھی پڑھیں: رہائی نہیں صرف دوائی: پی ٹی آئی قیادت کا امتحان شروع، کیا کامیاب ہوپائے گی؟
اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو ممکن ہے کہ وہ کم از کم کچھ معاملات پر جیسے پارلیمانی کمیٹیوں میں نمائندگی، یا بعض سیاسی قیدیوں کی رہائی جیسے معاملات پر لچک دکھائے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کے لیے بھی یہ ایک آزمائش ہے کہ کیا وہ لانگ مارچ کی دھمکی کو بطور دباؤ برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کی میز پر بیٹھے گی یا پارٹی کے اندر موجود ’مذاکرات مخالف‘ آواز جو سڑکوں پر نکلنے کو ہی واحد راستہ سمجھتی ہے۔ حاوی ہو جائے گی۔
شوکت یوسفزئی کے حالیہ تجربے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پارٹی کے اندر مذاکرات کی حمایت کرنا بھی اب ایک خطرناک سیاسی موقف بن چکا ہے، جہاں ’سمجھوتہ پسند‘ کا لیبل لگنے کا خدشہ رہتا ہے۔ ایسے ماحول میں بیرسٹر گوہر کے لیے پیغام قبول کرنا ایک رسمی پیش رفت تو ہے، مگر اسے عملی نتیجے تک پہنچانا کہیں زیادہ مشکل کام ہو گا۔
پاکستانی سیاست میں مذاکرات عموماً کسی ٹھوس حل کی بجائے وقتی کشیدگی کم کرنے کا ذریعہ رہے ہیں۔ اصل امتحان یہ ہو گا کہ کل کی ملاقات میں ایجنڈا کیا طے ہوتا ہے۔ کیا بات چیت کا دائرہ کار واضح ہے، یا یہ محض ایک علامتی ملاقات ہے جو لانگ مارچ کے موضوع کو کچھ دن کے لیے پسِ پشت ڈال دے گی؟ جب تک دونوں طرف کے بنیادی مطالبات (جیسے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات، جوڈیشل کمیشن، یا سیاسی قیدیوں کی رہائی) پر واضح پیش رفت سامنے نہیں آتی، اس وقت تک اسے ’امید کی کرن‘ سے زیادہ ’وقتی سیز فائر‘ ہی کہا جا سکتا ہے۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







