وفاقی ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہے، جس کے نتیجے میں نقل و حمل کے اخراجات بڑھے اور اس کے اثرات روزمرہ استعمال کی اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر بھی پڑے۔
اعدادوشمار کے مطابق سالانہ بنیاد پر پیاز کی قیمت میں سب سے زیادہ 132.52 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جب کہ ٹماٹر 93.21 فیصد اور گندم کا آٹا 62.25 فیصد مہنگا ہوا۔
توانائی کی اشیا کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ ایل پی جی کی قیمت میں سالانہ بنیاد پر 51.69 فیصد، ڈیزل میں 33.08 فیصد جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 27.65 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ہفتہ وار بنیاد پر بھی مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں پیاز کی قیمت 14.17 فیصد، پیٹرول 3.77 فیصد اور مرغی کا گوشت 3.35 فیصد مہنگا ہوا۔ اس کے علاوہ لہسن، چنے کی دال، تیار چائے اور دودھ کی قیمتوں میں بھی معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب بعض اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی بھی ہوئی۔ انڈے 5.78 فیصد، ڈیزل 5.15 فیصد، ٹماٹر 4.99 فیصد جبکہ آلو کی قیمت میں 1.17 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا اثر دیگر اشیا کی قیمتوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ فروری 2026 کے اواخر میں شروع ہونے والی امریکہ ایران کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل و گیس کی ترسیل میں رکاوٹوں نے عالمی توانائی کی قیمتوں پر دباؤ بڑھایا ہے، جس کے اثرات پاکستان میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
گروتھ سکیورٹیز کے مطابق اگست 2026 میں مہنگائی کی مجموعی شرح سالانہ بنیاد پر 11 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جب کہ ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں ایک فیصد اضافہ متوقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے نتیجے میں خوراک اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی اضافی دباؤ آنے کا خدشہ ہے۔







