پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق تجربے کے دوران میزائل کے مختلف ذیلی نظاموں کے اضافی تکنیکی پیرامیٹرز کی بھی توثیق کی گئی، جنہیں درستگی بہتر بنانے اور میزائل کی بقا کی صلاحیت بڑھانے کے لیے شامل کیا گیا ہے۔

تجرباتی لانچ کا مشاہدہ پاکستان آرمی کے سینئر افسران کے علاوہ میزائل کی تیاری سے متعلق ادارے کے سائنسدانوں اور انجینئرز نے کیا۔

صدرِ پاکستان آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سروسز چیفس نے فتح-4 کے توسیعی ورژن کے کامیاب تجربے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

انہوں نے اس سنگِ میل کے حصول میں کردار ادا کرنے والے سائنسدانوں، انجینئرز اور دیگر متعلقہ افراد کی تکنیکی مہارت، لگن اور عزم کو سراہا۔

واضح رہے کہ پاکستان نے رواں سال مئی میں بھی فتح-4 گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل کا کامیاب تربیتی تجربہ کیا تھا۔ اس وقت میزائل جدید ایویونکس اور نیوی گیشنل آلات سے لیس تھا اور طویل فاصلے پر اہداف کو درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

ستمبر 2025 میں پاکستان نے فتح-4 کا تربیتی لانچ 750 کلومیٹر کی رینج پر کیا تھا۔ تاہم آج کے تجربے کے حوالے سے آئی ایس پی آر نے توسیعی ورژن کی نئی زیادہ سے زیادہ رینج ظاہر نہیں کی۔

تازہ تجربہ پاکستان کے مقامی میزائل پروگرام میں فتح-4 نظام کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے اور اس کے مختلف تکنیکی ذیلی نظاموں کی جانچ کی کڑی قرار دیا جارہا ہے۔