یہ احتجاج محض راہول گاندھی کی حراست تک محدود نہیں بلکہ بھارت میں ووٹر لسٹوں کی بڑے پیمانے پر نظرِ ثانی کے خلاف جاری ایک وسیع سیاسی مہم کا حصہ ہے۔ اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر لسٹوں کی نظرِ ثانی کا عمل روکنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
آخر معاملہ ہے کیا؟
تنازع کی بنیادی وجہ انڈین الیکشن کمیشن کا اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) پروگرام ہے، جس کا مقصد انتخابی فہرستوں کو دوبارہ جانچنا، جعلی، دہرے اور غیر اہل ووٹرز کے نام ختم کرنا اور اہل ووٹرز کا اندراج یقینی بنانا ہے۔
یہ عمل ابتدا میں جون 2025 میں ریاست بہار سے شروع کیا گیا تھا، جس کے بعد اسے انڈیا کی متعدد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں تک پھیلایا گیا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد انتخابی فہرستوں کی درستگی اور شفافیت یقینی بنانا ہے۔
لیکن اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ اس عمل میں ایسے لاکھوں اہل ووٹرز بھی فہرستوں سے باہر ہوسکتے ہیں جن کے لیے مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنا مشکل ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کا اثر غریب، پسماندہ اور اقلیتی طبقات پر زیادہ پڑ سکتا ہے۔
13 کروڑ ووٹرز کے نام کیوں زیرِ بحث ہیں؟
اس پورے تنازع میں سب سے زیادہ زیرِ بحث اعداد و شمار تقریباً 13 کروڑ ناموں کے حذف ہونے کا ہے۔ اپوزیشن اور ناقدین کا کہنا ہے کہ 2025 میں شروع ہونے والی نظرِ ثانی کے دوران تقریباً 130 ملین نام ڈرافٹ ووٹر لسٹوں سے خارج کیے گئے، جس سے یہ خدشہ پیدا ہوا کہ بڑی تعداد میں اہل شہری بھی ووٹ کے حق سے محروم ہوسکتے ہیں۔
یہ بات اہم ہے کہ ہر حذف شدہ نام کو حتمی طور پر ووٹ سے محرومی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ نظرِ ثانی کا مقصد جعلی، دہرے یا نااہل اندراجات کو ختم کرنا ہے اور اہل ووٹرز کے نام دوبارہ شامل کرانے کے لیے طریقہ کار موجود ہے۔
راہول گاندھی سڑکوں پر کیوں نکلے؟
منگل کو اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹرز کی جانب مارچ کے لیے نکلے، تاہم دہلی پولیس نے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرکے انہیں روک دیا۔
احتجاج کے دوران راہول گاندھی پولیس کی جانب سے لگائی گئی بیریکیڈ پر چڑھ گئے اور انڈین پرچم لہراتے رہے۔ بعد ازاں انہیں دیگر اپوزیشن ارکان کے ساتھ پولیس نے حراست میں لے لیا اور کچھ دیر بعد رہا کردیا۔
راہول گاندھی نے احتجاج کے دوران چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کے احتجاج کا نعرہ ’’Gyanesh, it’s done, bro‘‘ بھی سوشل میڈیا پر نمایاں رہا۔
راہول گاندھی کا ’ووٹ چوری‘ کا الزام
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹوں میں تبدیلیاں محض انتظامی عمل نہیں بلکہ اس سے انتخابی نتائج اور ووٹروں کے حق پر اثر پڑ سکتا ہے۔
راہول گاندھی اس سے قبل الیکشن کمیشن اور حکومت پر ’ووٹ چوری‘ کے الزامات عائد کرچکے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ انتخابی فہرستوں میں تبدیلیاں وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔
کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے ساتھ ساتھ ایس آئی آر عمل کو روکنے اور انتخابی فہرستوں میں مبینہ طور پر خارج کیے گئے اہل ووٹرز کے نام بحال کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
الیکشن کمیشن اور بی جے پی کیا کہہ رہے ہیں؟
انڈین الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹوں میں جان بوجھ کر بے ضابطگی یا سیاسی مداخلت کے الزامات مسترد کیے ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر کا مقصد انتخابی فہرستوں کو صاف اور درست بنانا، جعلی یا غیر اہل ووٹرز کو نکالنا اور اہل شہریوں کا حقِ رائے دہی محفوظ رکھنا ہے۔
بی جے پی نے بھی اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج سیاسی مقاصد کے لیے کیا جارہا ہے۔
الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات کی رپورٹ کیوں اہم ہے؟
تنازع اس وقت مزید بڑھا جب انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن کے تین ارکان میں سے دو نے ووٹر لسٹوں اور انتخابی طریقہ کار سے متعلق بعض فیصلوں پر متعدد مرتبہ اعتراضات اٹھائے۔
رپورٹ کے مطابق ان اعتراضات میں ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے اور خارج کرنے، ووٹر ڈیٹا تک رسائی اور انتخابی ڈیٹا کے تحفظ سمیت ایس آئی آر سے متعلق معاملات شامل تھے۔
الیکشن کمیشن نے اس رپورٹ کو مختلف آرا اور اندرونی مشاورت کا حصہ قرار دیا ہے، جب کہ اس کا مؤقف ہے کہ حتمی فیصلے ادارہ جاتی طریقہ کار کے مطابق کیے گئے۔
معاملہ سپریم کورٹ تک بھی پہنچ چکا ہے
ووٹروں کے نام حذف کیے جانے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر تنازع اب انڈیا کی سپریم کورٹ تک بھی پہنچ چکا ہے۔ عدالت نے حکومت اور الیکشن کمیشن سے وضاحت طلب کی ہے اور خاص طور پر اس معاملے پر بھی غور کیا جارہا ہے کہ ایس آئی آر کے دوران ووٹر رجسٹریشن کے بعض فارم اور طریقہ کار میں تبدیلی کس اختیار کے تحت کی گئی۔
سپریم کورٹ نے فوری طور پر چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کا حکم نہیں دیا بلکہ متعلقہ ریکارڈ اور الیکشن کمیشن کا مؤقف سننے کا عمل جاری ہے۔
احتجاج اب کہاں کھڑا ہے؟
اس وقت انڈیا میں صورتحال یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں، طلبہ تنظیمیں اور ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نامی نوجوانوں کی ایک سیاسی تحریک الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔ ان کا بنیادی مطالبہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ، ایس آئی آر کو روکنا اور ووٹر لسٹوں کے عمل میں زیادہ شفافیت ہے۔
دوسری جانب انڈین حکومت اور الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹوں کی نظرِ ثانی انتخابی عمل کو صاف اور شفاف بنانے کے لیے کی جارہی ہے۔
یوں راہول گاندھی کی مختصر حراست دراصل ایک بڑے سیاسی تنازع کی تازہ کڑی ہے، جس کے مرکز میں یہ سوال ہے کہ انڈیا میں ووٹر لسٹوں کی تبدیلی سے کتنے اہل شہری متاثر ہوں گے، یہ عمل کس حد تک شفاف ہے اور الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری پر اٹھنے والے سوالات کا جواب کیسے دیا جائے گا۔







