ملاقات کے دوران راجا ناصر عباس نے مولانا فضل الرحمان کو عمرے کی مبارکباد دی اور انہیں آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔ اپوزیشن اتحاد کی جانب سے سیاسی جماعتوں کو مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لیے مختلف رہنماؤں سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔
ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ ہم سب پاکستان کے بیٹے ہیں اور وطن کو درپیش مشکلات سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ پاکستان کی صورتحال روز بروز بدتر ہو رہی ہے، اس لیے تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر ملک کے مسائل پر غور کرنا ہوگا۔
راجا ناصر عباس کے مطابق سیاستدان ون مین شو کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں، جب کہ سیاسی لوگوں میں لچک ہوتی ہے اور وہ مایوس نہیں ہوتے۔
علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی طرح وہ بھی ایک متفقہ ایجنڈے کے متقاضی ہیں۔ مشاورت سے بننے والے ایجنڈے میں پورے پاکستان کے مسائل کا حل تلاش کیا جائے گا اور تمام سیاسی قوتیں مل کر مشترکہ سیاسی جدوجہد کریں گی۔
راجا ناصر عباس نے کہا کہ جہاں سیاسی عمل روک دیا جائے وہاں انتہا پسند رویے پروان چڑھتے ہیں، اس لیے سیاسی عمل اور باہمی مشاورت کو جاری رکھنا ضروری ہے۔
راجا ناصر عباس نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی مسائل کا حل نہیں، بلکہ ایسے اقدامات سیاسی صورتحال کو مزید پیچیدہ کرسکتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے حالیہ ملاقات میں بھی کہا کہ ان کی جماعت آئین کو معطل کرنے، گورنر راج نافذ کرنے یا ایمرجنسی کے ذریعے موجودہ نظام کو متاثر کرنے کے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی۔
اپوزیشن اتحاد کی جانب سے مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس کا مقصد ملک کی سیاسی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال سمیت مختلف قومی معاملات پر سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورت اور مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینا ہے۔







