پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 88 پیسے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 53 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کا اطلاق 21 نومبر سے ہوگا۔

حکومت کی جانب سے یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب گزشتہ روز ہی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا گیا تھا۔

اس سے قبل پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 16 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 69 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی تھی، جب کہ گزشتہ ہفتے جمعہ کو پیٹرول 3 روپے 93 پیسے فی لیٹر سستا کیا گیا تھا اور ڈیزل کی قیمت برقرار رکھی گئی تھی۔

دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں اور خلیج میں بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات کے باعث تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کے سودے 55 سینٹ، یعنی 0.50 فیصد اضافے کے ساتھ 110.10 ڈالر فی بیرل پر ہوئے، جب کہ گزشتہ کاروباری سیشن میں اس کی قیمت 110.70 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔

امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے نومبر کے معاہدے کی قیمت 0.24 فیصد اضافے کے ساتھ 103.91 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جب کہ دسمبر کے معاہدے کی قیمت 39 سینٹ اضافے کے بعد 98.93 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق خطے میں کشیدگی کے باعث تیل کی پیداوار، ترسیل اور برآمدات متاثر ہونے کے خدشات برقرار ہیں۔ بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنی کیلپر کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کم از کم 18 بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی اور بحری سلامتی سے متعلق تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔