ای سی سی نے کیا فیصلہ کیا؟
وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی سمری پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں موٹر اسپرٹ (ایم ایس) اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) پر پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن پر نظرثانی کی منظوری دی گئی۔
فیصلے کے بعد دونوں مصنوعات پر ڈیلرز کو فی لیٹر 9 روپے 98 پیسے مارجن ملے گا، جو اس سے قبل 8 روپے 64 پیسے تھا۔
پیٹرول پمپس مالکان کا مطالبہ پورا ہوگیا
آل پاکستان پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین نعمان بٹ نے ڈیلرز مارجن میں اضافے کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا شکریہ ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مارجن میں 1 روپے 34 پیسے فی لیٹر اضافہ کرکے ڈیلرز کا دیرینہ مطالبہ پورا کردیا ہے۔
15 اگست سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا
ڈیلرز مارجن میں اضافے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے 15 اگست سے ملک گیر غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کر رکھا تھا۔
ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں حکومت کے ساتھ مذاکرات اور مارجن میں اضافے کی منظوری کو ہڑتال سے متعلق فیصلے کی بنیادی وجہ قرار دیا۔
ایسوسی ایشن کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے بعد وزیر پیٹرولیم نے ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں وزیراعظم کی جانب سے ڈیلرز مارجن میں 1.34 روپے فی لیٹر اضافے کی منظوری سے آگاہ کیا۔
ڈیلرز کا 8 فیصد مارجن کا مطالبہ برقرار
ایسوسی ایشن کے مطابق ڈیلرز نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت کے 8 فیصد کے برابر مارجن کا مطالبہ بھی کیا ہے، جس پر حکومت نے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ کمیٹی 30 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
ایسوسی ایشن کے صدر کے مطابق حکومت کی یقین دہانیوں کے بعد 15 اگست کی ہڑتال مؤخر کردی گئی ہے، تاہم دیگر مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کیا قیمتوں کے تعین کا طریقہ بھی بدلے گا؟
ایسوسی ایشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے طریقہ کار سے متعلق بھی وزیراعظم کو نئی سمری بھجوائی گئی ہے۔
سمری میں مشرق وسطیٰ کی جنگی صورتحال میں کمی کے تناظر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دوبارہ 7 یا 15 روز کی بنیاد پر مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
یہ تبدیلی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور خطے کی صورتحال میں ممکنہ استحکام کے پیش نظر تجویز کی گئی ہے۔
صارفین پر کیا اثر پڑے گا؟
ڈیلرز مارجن میں 1 روپے 34 پیسے فی لیٹر اضافہ براہِ راست پیٹرول پمپ ڈیلرز کے مارجن میں شامل ہوگا۔ اگر اس اضافی رقم کو صارفین سے وصول ہونے والی حتمی قیمت میں منتقل کیا جاتا ہے تو پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت پر بھی اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ صرف ای سی سی کی منظوری کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں کہ پیٹرول اور ڈیزل کی حتمی قیمت لازماً 1.34 روپے بڑھ گئی ہے۔ حتمی قیمت کے تعین میں دیگر عوامل، ٹیکسز، لیویز اور قیمت کے سرکاری طریقہ کار کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔
اجلاس میں کون شریک تھا؟
ای سی سی اجلاس میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ کے علاوہ متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنوں کے وفاقی سیکریٹریز اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔







