آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 12 ہزار 800 روپے کی کمی کے بعد ملک میں ایک تولہ سونے کی قیمت 4 لاکھ 38 ہزار 136 روپے ہوگئی ہے، سونے کے نرخوں میں حالیہ کمی کو عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے دباؤ اور امریکی شرح سود سے متعلق توقعات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے۔ 10 ہزار 973 روپے کی کمی کے بعد 10 گرام سونے کا بھاؤ 3 لاکھ 75 ہزار 631 روپے ہوگیا۔

عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں بڑی کمی سامنے آئی ہے۔ عالمی بازار میں فی اونس سونا 128 ڈالر سستا ہوکر 4 ہزار 156 ڈالر فی اونس کی سطح پر آگیا ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق امریکی شرح سود سے متعلق توقعات عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں پر اثرانداز ہونے والے اہم عوامل میں شامل ہیں۔ شرح سود میں اضافے یا بلند شرح سود کے امکانات میں اضافہ عموماً سونے جیسے اثاثوں کی طلب اور قیمتوں پر اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری کے فیصلے عالمی مالیاتی حالات کو دیکھتے ہوئے کرتے ہیں۔

عالمی قیمت میں ہونے والی تبدیلی کا اثر پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹ پر بھی پڑتا ہے۔ مقامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ عالمی قیمت، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اور دیگر مارکیٹ عوامل کے مطابق تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

پاکستان میں سونے کی قیمت میں حالیہ کمی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گزشتہ چند روز کے دوران نرخوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ 26 ستمبر کو بھی ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 2 ہزار 100 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

صرافہ مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے باعث زیورات کے خریداروں اور سرمایہ کاروں کی جانب سے عالمی مارکیٹ کی صورتحال اور آئندہ دنوں میں قیمتوں کے رجحان پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

مارکیٹ میں سونے کے نرخ عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ مقامی کرنسی کی قدر اور طلب و رسد کی صورتحال سے بھی متاثر ہوتے ہیں، جس کے باعث قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر نمایاں فرق سامنے آسکتا ہے۔