وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کو فوری طور پر مکمل ریاست کا درجہ واپس دیا جائے۔ قرارداد کو 28 ستمبر 2026 کو ایوان میں صوتی ووٹ کے ذریعے منظور کیا گیا، جبکہ بی جے پی ارکان ووٹنگ کے وقت ایوان سے باہر جاچکے تھے۔

عمر عبداللہ نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے بھارتی حکومت کی جانب سے ریاستی حیثیت ’’مناسب وقت‘‘ پر بحال کرنے کے سابقہ وعدوں کا حوالہ دیتے ہوئے واضح مدت اور حکومتی عزم کے بارے میں سوالات اٹھائے۔

قرارداد میں جموں و کشمیر اسمبلی کی جانب سے ماضی میں منظور کی گئی قراردادوں کا حوالہ بھی شامل ہے۔ ان میں 26 جون 2000 کو منظور ہونے والی زیادہ خودمختاری سے متعلق قرارداد اور 6 نومبر 2024 کی قرارداد شامل ہیں۔

قرارداد کے بعض حوالوں پر بی جے پی ارکان نے شدید اعتراض کیا۔ بی جے پی کا مؤقف تھا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو 5 اگست 2019 سے پہلے کی آئینی حیثیت یا آرٹیکل 370 سے متعلق معاملات کے ساتھ جوڑنا مناسب نہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بی جے پی ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کی حمایت کا مؤقف رکھتی ہے، تاہم قرارداد کے متن اور سابقہ حیثیت سے متعلق حوالوں کی مخالفت کرتی ہے۔

بحث کے دوران قرارداد میں متعدد ترامیم بھی پیش کی گئیں، جن میں بعض کے ذریعے آرٹیکل 370، آرٹیکل 35 اے، سابقہ ریاستی حیثیت، ریاستی پرچم اور خصوصی حیثیت جیسے معاملات کے حوالے شامل کرنے کی کوشش کی گئی۔ بعد ازاں حتمی قرارداد میں بنیادی مطالبہ مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی پر مرکوز رہا۔

بی جے پی ارکان نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان میں احتجاج کیا اور ووٹنگ سے قبل واک آؤٹ کیا۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بی جے پی ارکان نے قرارداد کو پیش کرنے کے طریقہ کار اور اس کے متن پر بھی اعتراضات اٹھائے۔

عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں ریاستی حیثیت کی بحالی کو جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے وعدوں اور خطے میں منتخب حکومت کے اختیارات سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یونین ٹیریٹری کی موجودہ حیثیت کے باعث منتخب حکومت کے اختیارات سابق ریاستی نظام کے مقابلے میں محدود ہیں۔

جموں و کشمیر کی آئینی اور انتظامی حیثیت میں بڑی تبدیلی اگست 2019 میں آئی تھی، جب بھارتی حکومت نے آرٹیکل 370 کے تحت حاصل خصوصی حیثیت ختم کردی اور سابق ریاست کو دو یونین ٹیریٹریز، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کردیا۔ اس کے بعد جموں و کشمیر کو براہ راست نئی دہلی کے زیر انتظام یونین ٹیریٹری کا درجہ حاصل ہے۔

2024 کے اسمبلی انتخابات کے بعد عمر عبداللہ کی قیادت میں نیشنل کانفرنس کی حکومت قائم ہوئی، تاہم خطے کی موجودہ انتظامی ساخت میں لیفٹیننٹ گورنر کو متعدد اہم اختیارات حاصل ہیں۔ ریاستی حیثیت کی بحالی کا معاملہ اس حکومت اور بھارتی مرکزی حکومت کے درمیان اہم سیاسی موضوعات میں شامل رہا ہے۔

تازہ قرارداد کی منظوری کے بعد بھی ریاستی حیثیت کی بحالی کا حتمی فیصلہ بھارتی مرکزی حکومت کے اختیار میں ہے۔ اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد کو بھارتی حکومت کو کارروائی کے لیے بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ بی جے پی اور حکمراں جماعت کے درمیان اس معاملے پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔