خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آج تحریک انصاف کے متعدد بانی رہنماؤں میں سے ایک کو عدلیہ کی جانب سے غیر معمولی ریلیف ملا، جس کے بعد پارٹی کی جانب سے فیصلے کا جس انداز میں خیر مقدم کیا گیا، وہ اس بات کا اظہار ہے کہ پی ٹی آئی اپنے قائد عمران خان کو کسی بھی طریقے سے جیل سے باہر لانے کے لیے بے حد بے تاب ہے۔

وزیر دفاع کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے عدالتی فیصلے پر خوشی کا اظہار اس کے ماضی کے سیاسی مؤقف کے تناظر میں کئی سوالات بھی اٹھاتا ہے، یہی وہ حلقے ہیں جو ماضی میں دیگر سیاسی رہنماؤں کو جیل بھیجنے اور ان کی قید کو مزید سخت کرنے کے مطالبات کرتے رہے ہیں۔

خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا کہ سیاسی حالات بدلنے کے ساتھ تحریک انصاف کے مؤقف میں بھی نمایاں تبدیلی دکھائی دے رہی ہے، اضی میں عمران خان کو ناقابل شکست اور خود ساختہ ’’آئرن مین‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا، لیکن آج پوری جماعت کی جانب سے انہیں جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ جیل میں موجود قیدیوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کا معاملہ نیا نہیں۔ ماضی میں بھی قیدیوں کو ضرورت کے مطابق اسپتالوں میں علاج کی سہولت فراہم کی جاتی رہی ہے اور آج بھی انہیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ عمران خان کو فوری، مؤثر اور مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں

تاہم خواجہ آصف نے واضح کیا کہ طبی سہولیات کی فراہمی اور عدالتی معاملات دو الگ پہلو ہیں، تحریک انصاف کو عدالتی فیصلوں پر جشن منانے سے پہلے اپنے ہی سیاسی بیانیے میں موجود تضادات کا جواب دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف ایک طرف ماضی میں سخت سزاؤں اور جیلوں میں قید کے مطالبات کرتی رہی، جبکہ دوسری جانب آج اپنے قائد کے لیے ریلیف، طبی سہولت اور جیل سے اسپتال منتقلی کا مطالبہ کر رہی ہے، یہ تبدیلی سیاسی منظرنامے میں نمایاں تضاد کی عکاسی کرتی ہے۔

وزیر دفاع نے اپنے بیان میں سیاسی حالات کو ’’قدرت کا انتقام‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج غرور کے ہمالیہ پہاڑوں کے مقابلے میں مارگلہ کی پہاڑیاں زیادہ بلند دکھائی دے رہی ہیں۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، تاہم وہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے دعاگو ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ عمران خان کو تمام بیماریوں سے شفا عطا فرمائے اور انہیں صحت یاب کرے۔

دوسری جانب عمران خان کی صحت، جیل میں طبی سہولیات اور انہیں اسپتال منتقل کیے جانے کا معاملہ تحریک انصاف کے سیاسی بیانیے کا اہم حصہ بنا ہوا ہے۔ پارٹی رہنما مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ سابق وزیراعظم کو ان کی صحت کے پیش نظر مناسب طبی معائنہ اور ضروری علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔

ملکی سیاست میں عمران خان کی قانونی حیثیت، عدالتی ریلیف اور جیل میں ان کی صحت سے متعلق معاملات پہلے ہی سیاسی بحث کا مرکز ہیں۔ ایسے میں خواجہ آصف کا تازہ بیان حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کی ایک اور کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ خواجہ آصف کے بیان میں پی ٹی آئی کی حکمت عملی اور عمران خان کے لیے عدالتی و طبی ریلیف کے مطالبات پر تنقید کی گئی ہے، جبکہ تحریک انصاف کا مؤقف اس معاملے میں اپنی قانونی جدوجہد اور عمران خان کے بنیادی حقوق کے تحفظ پر مرکوز رہا ہے۔