سی ایم ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں 5 روپے سے زائد اضافہ عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر عائد اضافی ٹیکسز اور لیوی ختم کرے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔

امیر جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر تک لائی جاسکتی ہے، تاہم اس کے لیے حکومت کو اضافی ٹیکسز اور پٹرولیم لیوی میں کمی کرنا ہوگی

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے غصے کو نظر انداز نہ کیا جائے، کیونکہ معاملات حکومت کے ہاتھ سے نکل سکتے ہیں، اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس نہ لیا گیا تو جماعت اسلامی احتجاج کو مزید وسعت دے گی اور ضرورت پڑنے پر پورے ملک میں ہڑتال کی کال بھی دی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے 510 مقامات پر شاہراہوں کی بندش جماعت اسلامی کی احتجاجی طاقت اور عوامی حمایت کا ثبوت ہے، جماعت اسلامی کے دھرنے کسی سیاسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام کو مہنگائی سے ریلیف دلانے کے لیے جاری ہیں

حافظ نعیم الرحمان نے بجلی کے شعبے اور آئی پی پیز کے معاہدوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کے نتیجے میں قومی خزانے کو 360 ارب روپے کا فائدہ ہوا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ مزید آئی پی پیز کے معاہدوں کا بھی ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیپیسٹی پیمنٹس کے نام پر عوام سے رقم وصول کی گئی، جس کا بوجھ بالآخر بجلی کے بلوں کی صورت میں صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے ایف بی آر کی ٹیکس وصولی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ادارہ ٹیکس وصولی کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہے اور حکومت اپنی انتظامی کمزوریوں کا بوجھ عوام پر نئے ٹیکسز کی صورت میں ڈال رہی ہے

ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے موجودہ نظام کے بجائے براہ راست ٹیکس وصولی کا مؤثر اور شفاف نظام تشکیل دیا جائے۔ پٹرول، بجلی اور گیس کے بلوں پر مختلف ٹیکسز عائد کرکے عوام کو مسلسل مالی دباؤ میں رکھا جا رہا ہے

حافظ نعیم الرحمان نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی نے غریب طبقے، مزدوروں، کسانوں اور نوجوانوں کو شدید متاثر کیا ہے

ان کے مطابق آٹے کی قیمت 160 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ بعض علاقوں میں روٹی بھی 20 سے 25 روپے میں فروخت ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے

جماعت اسلامی کے امیر نے حکومت کی زرعی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کسان ہر فصل کے بعد مزید قرضوں میں جکڑتا جارہا ہے، حکومت نے زراعت کے شعبے کو بھی مشکلات سے دوچار کردیا ہے

پنجاب میں سرکاری اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ کے معاملے پر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت تعلیم کی ذمہ داری سے دستبردار ہونے کے بجائے سرکاری تعلیمی اداروں کو بہتر بنائے اور بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائے

انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں نااہلی اور کرپشن کا امتزاج ہیں، جبکہ موجودہ حکومت نے عوام پر قرضوں کا بوجھ مزید بڑھا دیا ہے

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کا مطالبہ واضح ہے کہ حکومت عوام کی آواز سنے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لے اور فوری ریلیف فراہم کرے

انہوں نے لاہور کے نوجوانوں اور شہریوں سے جماعت اسلامی کے دھرنے میں بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے تینوں مقامات پر جاری ہیں اور بلوچستان میں بھی احتجاجی سلسلہ شروع کیا جائے گا

ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم لیوی ختم کیے بغیر عوام کو حقیقی ریلیف فراہم نہیں کیا جاسکتا۔ جماعت اسلامی عوام کے لیے ریلیف چاہتی ہے اور اسے کسی ذاتی یا سیاسی فائدے کی ضرورت نہیں

حافظ نعیم الرحمان نے ایک بار پھر حکومت پر زور دیا کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لے، بصورت دیگر جماعت اسلامی احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرنے سمیت ملک گیر ہڑتال کی جانب بھی جاسکتی ہے۔