وزیراعلیٰ نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ 27 ستمبر کے مارچ کے لیے بھرپور تیاری کی جائے، اس بار ملک و قوم کی تقدیر اور تاریخ دونوں بدل دیں گے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں 2022 تک امن تھا، اس کے بعد کے حالات سب کے سامنے ہیں، صوبے میں امن کی تباہی کی ذمہ دار موجودہ حکومت اور اسے اقتدار میں لانے والے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا گزشتہ دو دہائیوں سے تجربہ گاہ بنا ہوا ہے اور یہاں کے عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھا جاتا ہے، تاہم امن کے قیام کے لیے صوبے کے عوام نے ہزاروں جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں نے امن تباہ کیا، صوبے اور عوام کے خلاف کیے جانے والے ہر فیصلے کی مخالفت کریں گے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس امن کی بحالی اور عوام کے تحفظ کے لیے سینہ سپر ہے، صوبائی حکومت پولیس فورس کو ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کے انفرااسٹرکچر کی ترقی، جدید آلات کی فراہمی اور اہلکاروں کی تربیت پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، امن ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے اور اس کی بحالی کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی قوم کے مستقبل کے لیے ناحق قید کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں، اپنے لیڈر کی رہائی کے لیے نکلیں گے اور 27 ستمبر کے مارچ کی خود قیادت کریں گے۔







