حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہر لیٹر پٹرول پر عوام سے 136 روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، جب کہ بجلی کے بلوں میں فکس چارجز عائد کرکے صارفین پر مزید مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
انہوں نے بجلی چوری کے معاملے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بجلی چوری حکومت کی نااہلی اور کرپشن ہے، اس کا بوجھ عوام پر ڈالنا ظالمانہ نظام ہے۔ بجلی چوری کا نقصان پورے علاقے کے صارفین میں تقسیم کرنا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ آئی پی پیز، بجلی اور پٹرول سمیت مختلف شعبوں کے مافیاز عوام کو لوٹ رہے ہیں، جب کہ کوئی سیاسی جماعت آئی پی پیز، بجلی کے بلوں اور پٹرولیم لیوی کے خلاف مستقل تحریک نہیں چلاتی۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کسان خون پسینہ بہا کر قوم کے لیے غلہ پیدا کرتا ہے، لیکن اسے اپنی محنت کی پوری قیمت نہیں ملتی، جب کہ عوام کو مہنگی روٹی خریدنا پڑتی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کسان اور عوام کے درمیان موجود مافیا حکومتوں کے ساتھ مل کر دونوں کو لوٹ رہا ہے اور پنجاب ہو یا سندھ، کسانوں اور عوام کے ساتھ یہی کھیل جاری ہے۔چینی، آٹا، آئی پی پیز، پیٹرولیم اور بینک سمیت مختلف مافیاز عوام کو متاثر کر رہے ہیں، جب کہ لینڈ مافیا سمیت بعض گروہ سیاسی جماعتوں کو مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ بڑی سیاسی جماعتوں کے دعوے اپنی جگہ، لیکن ان کے اندر مافیاز کا اثر موجود ہے۔ وقت آنے پر مافیاز کی سیاسی سرپرستی کے شواہد قوم کے سامنے لائیں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی اس وقت چند بنیادی عوامی مسائل پر توجہ مرکوز کرکے عوام کو ان کا حق دلانے کی کوشش کر رہی ہے اور پٹرولیم لیوی کے خلاف تحریک عوام کی ترجمانی کی تحریک ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض مافیاز اپنے لوگوں کے ذریعے جماعت اسلامی کی تحریک کے خلاف پروپیگنڈا کروا رہے ہیں، جتنا پروپیگنڈا کیا گیا، تحریک اتنی ہی آگے بڑھتی گئی۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آج پاکستان کے بچے بچے کو معلوم ہے کہ پٹرولیم لیوی عوام پر اضافی بوجھ ہے۔ 39 روزہ دھرنا کوئی معمولی جدوجہد نہیں، جب کہ کراچی، لاہور اور چترال سمیت مختلف علاقوں میں طویل دھرنے عوامی جدوجہد کی مثال ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سکھر، لاڑکانہ اور دیگر علاقوں میں بھی عوام نے دھرنے دے کر اپنے مطالبات کے حق میں آواز اٹھائی، جب کہ احتجاجی دھرنے جلسہ عام، ٹرین مارچ اور سڑکوں پر عوامی احتجاج میں تبدیل ہوئے۔
جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ ٹرین مارچ سے پہلے بھی حکومت کے وزراء سے مذاکرات ہوتے رہے اور اس کے بعد بھی بات چیت جاری رہی۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے احتجاج ختم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے راستہ نکالنے کی بات کی، تاہم جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ احتجاج اور مذاکرات ساتھ ساتھ چلیں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ لاہور میں جلسے کے راستے میں کنٹینرز رکھے گئے، لیکن کنٹینرز جماعت اسلامی کی جدوجہد کا راستہ نہیں روک سکے۔ حکومت کو اب عوام کے مطالبات پر فیصلہ کرنا ہوگا، اب پوری گیند حکومت کے کورٹ میں ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان واپس آچکے ہیں، اب حکومت اپنے وزراء سے مشاورت کے بعد عوام کو جواب دے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی اپنے احتجاج سے پیچھے ہٹنے والی نہیں اور عوامی مسائل کے حل تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
واضح رہے کہ جماعت اسلامی گزشتہ کئی ہفتوں سے پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور دیگر عوامی مطالبات کے لیے ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی دھرنے دے رہی ہے، جب کہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان لیوی سمیت دیگر مطالبات پر مذاکرات بھی ہوتے رہے ہیں۔







