اب آئیے پنجاب کی طرف، جہاں جمہوریت کا ذائقہ ذرا مختلف ہے۔ یہاں وزیراعلیٰ صاحبہ کی بیٹی کی گریجویشن لندن میں تھی، سو سرکاری گلف سٹریم نے پرواز بھری۔ سوال اٹھا تو پہلے سینئر وزیر نے نہایت پراعتماد انداز میں فرمایا کہ ’خریدا ہے بھئی۔‘

 گویا جہاز کسی کباڑی سے نہیں، پنجاب کے اپنے خزانے سے خریدا گیا ہے، تو اس پر سوال کیسا؟ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے میں نے اپنے ہی گھر کی چھت پر چڑھ کر چیخنے کی اجازت خود سے لے لی، اب کسی اور کو اعتراض کا کیا حق۔

پھر معاملہ تھوڑا آگے بڑھا، لندن جانے کی رسیدیں مانگی گئیں تو وزیراعلیٰ خود میدان میں اتریں۔ بتایا کہ انہوں نے سوا دو کروڑ روپے جیب سے ادا کیے، رسید بھی دکھائی، اور فرمایا کہ وہ موٹر سائیکل پر شہر شہر نہیں جا سکتیں۔

 بات درست ہے، کوئی وزیراعلیٰ موٹر سائیکل پر سفر کرے تو یہ منظر شاید عوام کو زیادہ ہی پسند آ جائے، مگر پروٹوکول کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ اور جو یوٹیوبرز اس سارے معاملے پر چہ مہ گوئیاں کر رہے تھے، ان پر بھی برہمی کا اظہار کر دیا گیا۔ گویا سوال اٹھانے والا خود مجرم ٹھہرا، نہ کہ جہاز کا کرایہ۔

یہ بھی پڑھیں: جہاز، جہازی اور ہم زمین والے

یوں دیکھا جائے تو دونوں کہانیوں میں طیارہ مشترک ہے، مگر ردعمل کی کہانی الگ ہے۔ اونٹاریو میں حکومت نے فیصلہ واپس لے کر یہ تاثر دیا کہ عوام کی بات سنی جاتی ہے، چاہے دکھاوے کے لیے ہی سہی۔ پنجاب میں معاملہ ’وضاحتوں‘ کے ایک لامتناہی سلسلے میں بدل گیا۔ پہلے انکار، پھر رسید، پھر جواب الجواب، اور آخر میں ناقدین کی سرزنش۔

ہمارے ہاں اصل فن یہ نہیں کہ فیصلہ درست ہے یا غلط، اصل فن یہ ہے کہ اعتراض کرنے والے کو ہی اتنا تھکا دیا جائے کہ وہ خود سوال کرنا بھول جائے۔ سو جہاں کینیڈا میں دو دن میں معاملہ ختم ہوا، وہاں پنجاب میں معاملہ بحث، وضاحت، رسید اور تنقید کے چکر میں ابھی زندہ ہے اور شاید یہی زندہ رہنا ہی اصل کامیابی سمجھا جاتا ہے۔

بہرحال، دونوں وزرائے اعلیٰ کو سفر مبارک ہو۔ ایک نے جہاز بیچ دیا، دوسری ابھی اسی میں پرواز جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک طرف ’ہم نے سنا‘ کا بیانیہ ہے اور دوسری طرف ’خریدا ہے بھئی‘ کا اعتماد۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر