ماسکو میں والڈائی ڈسکشن کلب کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ دنیا بھر میں لوگ ایران میں ہونے والی پیش رفت کو قریب سے دیکھ رہے ہیں اور ایرانی قوم کی استقامت اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نمایاں ہے۔
روسی صدر نے ایرانی قیادت، مسلح افواج اور پاسداران انقلاب میں موجود تجربہ کار افراد کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایران کے ریاستی و عسکری ڈھانچے میں ایسے افراد موجود ہیں جو اپنے ملک اور عوام کے لیے قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔
پیوٹن نے ایران کے جوہری پروگرام اور سفارتی کوششوں کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق روس ماضی میں ایران کے افزودہ یورینیم سے متعلق ایک تجویز پیش کرچکا ہے اور ضرورت پڑنے پر اس حوالے سے تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال معمول پر آنے اور ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کی امید بھی ظاہر کی۔
روسی صدر نے کہا کہ ایران اور روس کے درمیان تعلقات گزشتہ برسوں کے دوران مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک مغربی پابندیوں اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والی معاشی و سیاسی مشکلات کے باوجود تجارت، توانائی اور دیگر شعبوں میں تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
والڈائی فورم سے خطاب میں پیوٹن نے روس کے علاقے کالینن گراڈ سے متعلق بھی سخت مؤقف اختیار کیا، اگر روسی سرزمین، بالخصوص کالینن گراڈ، پر براہِ راست حملہ کیا گیا تو روس اپنے پاس موجود تمام اقسام کے ہتھیاروں کے استعمال پر غور کرے گا۔
پیوٹن نے ساتھ ہی کہا کہ روس کا کسی یورپی ملک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، تاہم اگر روس کو جارحیت کا سامنا ہوا تو ماسکو جواب دینے پر مجبور ہوگا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بالٹک خطے میں نیٹو کی فوجی سرگرمیوں اور کالینن گراڈ کی سیکیورٹی سے متعلق کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
روسی صدر نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کے خطرے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس بات کی ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ ایسے ہتھیار کبھی استعمال نہیں ہوں گے، اس لیے عالمی طاقتوں کو ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
پیوٹن کے ایران سے متعلق بیان اور کالینن گراڈ کے حوالے سے انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس، ایران اور مغربی ممالک کے درمیان مختلف محاذوں پر سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی اختلافات برقرار ہیں۔ روس اور ایران دونوں پر وسیع مغربی پابندیاں عائد ہیں، جبکہ ماسکو اور تہران کے درمیان گزشتہ برسوں میں اسٹریٹجک تعاون بھی بڑھا ہے۔







