پنجاب حکومت کے مطابق لاہور میں فضائی آلودگی کی وجوہات صرف شہر کے اندر موجود دھواں اور گردوغبار نہیں بلکہ دوسرے علاقوں سے آنے والا آلودہ دھواں بھی اس مسئلے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ شہر میں جاری تعمیراتی سرگرمیاں، سڑکوں کی تعمیر، ترقیاتی منصوبے اور عمارتوں کے اطراف اڑنے والی مٹی بھی فضا میں آلودگی کے ذرات بڑھانے کا سبب بنتی ہے۔

اسموگ کی شدت کم کرنے کے لیے لاہور کے مختلف علاقوں میں اینٹی اسموگ گنز چلائی جا رہی ہیں، یہ مشینیں پانی کی انتہائی باریک پھوار فضا میں چھوڑتی ہیں، جس سے ہوا میں موجود پی ایم 10 ذرات کو نیچے لانے میں مدد ملتی ہے۔ اس طریقہ کار کا مقصد فضا میں گردوغبار اور معلق آلودگی کے ذرات کی مقدار کم کرنا ہے۔

حکام کے مطابق اس وقت لاہور میں 12 اینٹی اسموگ گنز فعال ہیں، جن کی تعداد بڑھا کر 20 کی جائے گی۔ فیصل آباد میں دو اور گوجرانوالہ میں ایک مشین نصب کی جا چکی ہے، جبکہ مزید چار شہروں میں بھی یہ سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کے علاوہ 30 نئی اینٹی اسموگ گنز آنے والے دنوں میں مختلف شہروں میں نصب کی جائیں گی تاکہ فضائی آلودگی کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا جا سکے۔

حکام نے بتایا کہ رات کے اوقات میں درجہ حرارت میں تبدیلی اور موسمی حالات کے باعث آلودگی کے ذرات زمین کے قریب جمع ہونے لگتے ہیں، جس سے اسموگ کی شدت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اینٹی اسموگ گنز کے ذریعے فضا میں پانی کے باریک قطرے چھوڑے جاتے ہیں، جو گردوغبار کے ذرات کے ساتھ مل کر انہیں نیچے بٹھانے میں مدد دیتے ہیں۔ ان مشینوں کی پھوار کا دائرہ 100 میٹر سے زیادہ بتایا گیا ہے۔

اینٹی اسموگ گنز میں استعمال ہونے والے پانی کے معیار سے متعلق حکام کا کہنا ہے کہ مشینوں کے لیے واسا، پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی اور ریسکیو 1122 کے ہائیڈرنٹس سے پانی حاصل کیا جاتا ہے۔ استعمال سے قبل پانی کے معیار کی لیبارٹری میں جانچ بھی کی جاتی ہے۔ حکام کے مطابق مشینوں کی نوزلز انتہائی باریک ہونے کے باعث ان میں گندا یا مٹی ملا پانی استعمال نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس سے مشینوں کی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

دوسری جانب لاہور میں آگ لگنے کے واقعات بھی فضائی آلودگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق فائر بریگیڈ کی گاڑیاں شہر کے مختلف علاقوں میں 100 سے زائد مقامات پر آگ بجھانے کی کارروائیاں کر چکی ہیں۔

فضائی آلودگی کی صورت حال کے حوالے سے حکام نے سوئس ادارے کی تین روز قبل جاری ہونے والی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2025 میں گزشتہ سال کے مقابلے میں فضائی آلودگی کی صورتحال 15 فیصد بہتر رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ اکتوبر کے دوران بھی لاہور میں موسم نسبتاً صاف رہا اور دھوپ کے ساتھ آسمان پر نیلاہٹ برقرار رہی۔

تاہم حکام نے اعتراف کیا کہ لاہور اور اس کے گردونواح میں جاری تعمیراتی منصوبوں، سڑکوں کی تعمیر اور ترقیاتی سرگرمیوں کے باعث پیدا ہونے والی گردوغبار فضائی آلودگی کا ایک اہم سبب ہے۔ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے تعمیراتی مقامات پر گردوغبار کی روک تھام اور دیگر حفاظتی اقدامات کی ضرورت بھی برقرار ہے۔

حکام نے شہریوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اسموگ سے نمٹنے کے لیے مشینوں کی تعداد بڑھانے سمیت مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں لاہور میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی منصوبہ زیر غور ہے۔