نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ملک میں ایک غیر یقینی اور پراسرار ماحول پایا جاتا ہے، جہاں آئے روز مختلف سیاسی تبدیلیوں اور ممکنہ اقدامات سے متعلق باتیں اور افواہیں گردش کرتی رہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی ایسی باتوں کا ذکر کیا تھا، تاہم خواہشات اور عملی کوششوں میں فرق ہوتا ہے۔ اس معاملے میں عملی اقدامات سے زیادہ افواہ سازی نظر آتی ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ کسی ممکنہ گروپ کی تشکیل کے حوالے سے کسی کا نام لینا مناسب نہیں ہوگا، کیونکہ جب تک کوئی شخص خود سامنے آکر بات نہ کرے، اس کا نام نہیں لیا جا سکتا۔ ماضی میں بھی اس طرح کی افواہیں اور پروپیگنڈا سامنے آتے رہے ہیں۔
پروگرام میں جب ان سے پوچھا گیا کہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف کارروائی کون کر رہا ہے تو رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومتی ادارے ہی ان کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی ادارے کی ذمہ داری تجاوزات ختم کرنا ہے تو وہ اسی کے مطابق کام کرے گا۔ بعض اوقات تجاوزات کو نظرانداز کیا جاتا ہے، تاہم ایک مرتبہ نوٹس لینے کے بعد کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے گھر کے باہر موجود گارڈ کیبن کا بھی ذکر کیا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت اولین ترجیح دہشت گردی کا خاتمہ ہونی چاہیے اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کا تقاضا ہے کہ تمام توجہ اسی مقصد پر مرکوز رکھی جائے۔ مولانا فضل الرحمان کو حکومت کے ساتھ بات چیت میں شامل رکھنا چاہیے، کیونکہ انہیں جس سمت جاتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے، انہیں روکا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا اپنا سیاسی مؤقف ضرور ہے، لیکن وہ خود بھی دہشت گردوں کے حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں مولانا نے انہیں بھتے کی پرچیاں ملنے کا بھی بتایا تھا۔
مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان جنہیں صیہونی جماعت کہتے تھے، آج ان کے والی وارث بن گئے ہیں: خواجہ آصف
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مولانا فضل الرحمان اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔
انہوں نے واضح کیا کہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف کارروائی کے حوالے سے کوئی باضابطہ اجلاس نہیں ہوا۔ وزیراعظم نے نہ کسی کو کارروائی کرنے کا کہا ہے اور نہ ہی روکا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں مولانا فضل الرحمان اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ وزیراعظم ان کی عزت کرتے ہیں اور نہیں چاہیں گے کہ وہ سیاسی طور پر حکومت کے مخالف سمت میں کھڑے ہوں۔ وزرا کی جانب سے بیانات پر وزیراعظم نے کسی کو منع نہیں کیا، تاہم انہیں اس طرح کی باتیں کرنے کی ہدایت بھی نہیں دی۔







