اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کی ان سے ایک ملاقات ہوچکی ہے، جس کے دوران عمران خان کی صحت اور زیرِ سماعت مقدمات سے متعلق بعض ہدایات بھی موصول ہوئی ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات حوصلہ افزا نہیں ہیں، جس پر نہ صرف پارٹی قیادت بلکہ پوری قوم میں تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کو سیاسی معاملات سے الگ رکھتے ہوئے ان کے علاج اور طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو ضرورت کے مطابق اسپتال منتقل کرنے اور ان کے علاج کے حوالے سے فوری فیصلہ کیا جائے تاکہ کسی قسم کی تاخیر نہ ہو، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو بھی فوری طور پر رہا کیا جائے۔

انہوں نے ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن کشیدگی میں مزید اضافہ کسی کے مفاد میں نہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ سیاسی تناؤ ختم کیا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے سیاسی ماحول میں بہتری آسکے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ پارٹی کے ارکان اسمبلی، کارکنوں اور سپورٹرز کو اٹھانے اور گرفتار کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیوں سے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ سے بھی 18 اگست کے عدالتی حکم پر عمل درآمد یقینی بنانے کی درخواست کی، عدالتی احکامات پر عمل درآمد ہونا چاہیے اور متعلقہ معاملات کو قانون کے مطابق حل کیا جانا ضروری ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین کے ان مطالبات کو ایسے وقت میں سامنے آنے والی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جب بانی پی ٹی آئی کی صحت، ملاقاتوں اور پارٹی رہنماؤں و کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کے معاملے پر سیاسی ماحول میں پہلے ہی کشیدگی پائی جاتی ہے۔