یہ پیش رفت اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سے سوڈان کے وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل بابکر سمرہ مصطفیٰ علی کی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جبکہ وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں داخلی سلامتی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

مذاکرات کے دوران دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سیکیورٹی اور داخلی امور کے شعبوں میں تعاون کو عملی شکل دی جائے گی۔ خاص طور پر سائبر کرائم سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے تجربات سے استفادہ کرنے، متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے بڑھانے اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے تبادلے پر توجہ دی جائے گی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سوڈان میں امن و استحکام اور تعمیر نو کے عمل میں پاکستان کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی، پاکستان سوڈان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے ذریعے دونوں ممالک کے روابط کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔

اس موقع پر محسن نقوی نے سوڈان میں شہریوں کی رجسٹریشن اور شناختی نظام کی بہتری میں نادرا کے کردار سے بھی آگاہ کیا۔ ان کے مطابق نادرا کے تعاون سے سوڈان میں اب تک 3 کروڑ 60 لاکھ شہریت کارڈز، 90 لاکھ قومی شناختی کارڈز، ایک کروڑ 80 لاکھ پیدائشی سرٹیفکیٹس اور 5 لاکھ ڈیتھ سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ سول رجسٹریشن اور شناختی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے پاکستان آئندہ بھی تکنیکی معاونت فراہم کرتا رہے گا۔

ملاقات میں سوڈان کے وزیر داخلہ نے پاکستان میں مقیم سوڈانی شہریوں، بالخصوص پاکستانی خواتین سے شادی کرنے والی سوڈانی خواتین کو درپیش ویزا مسائل کا معاملہ بھی اٹھایا۔ اس پر محسن نقوی نے متعلقہ حکام کو ان مسائل کے فوری حل کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔

پولیس ٹریننگ کے حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان سوڈانی پولیس افسران کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس تعاون کے تحت پولیس افسران کو جدید تفتیش، جرائم کی روک تھام اور قانون نافذ کرنے کے شعبوں میں پاکستان کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل سکتا ہے۔ انہوں نے سوڈانی شہریوں کو پاکستان میں معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اور اس سلسلے میں ممکنہ آسانیاں فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔

سوڈانی وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل بابکر سمرہ مصطفیٰ علی نے پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بالخصوص سائبر کرائم کے خلاف کارروائیوں میں پاکستان کی مہارت اور تجربات سے استفادہ کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سوڈان کا برادر ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں میں تعاون کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

انہوں نے سوڈان کے لیے پاکستان کی جانب سے فراہم کی جانے والی معاونت پر پاکستانی حکومت اور وفاقی وزیر داخلہ کا شکریہ بھی ادا کیا۔

اجلاس میں وفاقی سیکرٹری داخلہ، متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ افسران، چیئرمین نادرا، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس، آئی جی فیڈرل کانسٹیبلری، ڈی جی نیشنل فرانزک ایجنسی، کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی، ڈی جی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، ڈی جی پاسپورٹ، چیئرمین سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد پولیس سمیت دیگر حکام بھی شریک تھے۔

ملاقات میں ہونے والے فیصلوں کو پاکستان اور سوڈان کے درمیان سیکیورٹی، ڈیجیٹل جرائم کی روک تھام، شناختی نظام اور ادارہ جاتی تعاون کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔