اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ پارلیمانی انتخابات کے بعد صدر آئزک ہرزوگ نے مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے مشاورت کی۔ ان ملاقاتوں کے دوران 120 رکنی کنیسٹ کے ارکان نے اگلی حکومت کی تشکیل کے لیے اپنی ترجیحات سے آگاہ کیا۔ مشاورت کے نتائج کے مطابق 67 ارکان نے گاڈی آئزنکوٹ جبکہ 46 ارکان نے بنجمن نیتن یاہو کی حمایت کی۔ سات ارکان نے کسی بھی امیدوار کی سفارش نہیں کی۔
اس پیش رفت کو نیتن یاہو کے لیے سیاسی دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم آئزنکوٹ کو 67 ارکان کی سفارشات ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں وزارت عظمیٰ مل گئی ہے یا نئی حکومت بنانے کے لیے حتمی اکثریت حاصل ہوگئی ہے۔ حکومت سازی کے لیے انہیں کنیسٹ میں کم از کم 61 ارکان کی حمایت پر مشتمل قابلِ عمل اتحاد تشکیل دینا ہوگا۔
اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے مشاورت کے بعد کہا کہ بظاہر حمایت کے اعداد و شمار واضح ہیں، لیکن سیاسی جماعتوں اور مختلف دھڑوں کے درمیان اختلافات اور ایک دوسرے پر عائد پابندیوں کے باعث یہ طے کرنا آسان نہیں کہ کون سا رہنما حقیقتاً حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔
صدر ہرزوگ کا کہنا تھا کہ وہ اتوار، 8 نومبر کو حکومت بنانے کا مینڈیٹ دینے سے پہلے مختلف جماعتوں کے رہنماؤں سے مزید ملاقاتیں کریں گے تاکہ سیاسی صورتحال کو سمجھنے اور ممکنہ اتحاد کے امکانات کا جائزہ لینے میں مدد مل سکے۔
اسرائیلی قانون کے تحت صدر جس رکنِ پارلیمنٹ کو حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپتے ہیں، اسے کابینہ تشکیل دینے کے لیے ابتدائی طور پر 28 دن دیے جاتے ہیں، جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید 14 دن کی توسیع بھی مل سکتی ہے۔
آئزنکوٹ کے سامنے سب سے بڑا چیلنج مختلف نظریات رکھنے والی جماعتوں کو ایک مشترکہ حکومتی اتحاد پر متفق کرنا ہوگا۔ چنانچہ 67 ارکان کی سفارشات کے باوجود اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کا معاملہ ابھی حتمی مرحلے تک نہیں پہنچا۔







