ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے جنگ کے بجائے سیاسی مذاکرات اور سفارت کاری ہی تنازعات کا حل ہیں۔ ان کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان کی امن کوششوں کا ثبوت ہیں اور ملک خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی سہولت کاری جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل میں وقت لگ سکتا ہے، اس لیے اس دوران کسی بھی فریق کو انتہائی اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔ جوہری حملے سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ اس معاملے پر قیاس آرائی یا تبصرہ کرنا مناسب نہیں۔

ترجمان کے مطابق آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع، اسرائیل فلسطین صورتحال، یمن میں حوثی حملوں اور آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحیرہ احمر میں بحری سلامتی کے معاملات زیر بحث آئے۔

وزرائے خارجہ نے مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پرامن حل کے عزم کا اعادہ کیا اور علاقائی امن کے لیے مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے سجاد حیدر خان نے بتایا کہ جنرل اسمبلی کی فرسٹ کمیٹی نے پاکستان کی پیش کردہ تین قراردادیں منظور کرلیں۔

ان میں علاقائی اور ذیلی علاقائی سطح پر اعتماد سازی کے اقدامات سے متعلق قرارداد بغیر ووٹنگ منظور ہوئی، جبکہ روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول سے متعلق قرارداد 180 ووٹوں سے منظور کی گئی۔ اس کے خلاف صرف انڈیا اور اسرائیل نے ووٹ دیا۔

غیر جوہری ممالک کو جوہری ہتھیاروں کے استعمال یا ان کی دھمکی سے تحفظ دینے کی قرارداد بھی 122 ووٹوں سے منظور ہوئی اور کسی ملک نے اس کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 5 نومبر کو پاکستان کی پیش کردہ سفارت کاری سے متعلق صدارتی بیان اتفاق رائے سے منظور کیا۔ اس بیان میں ثالثی، سفارتی رابطوں اور مذاکرات کا عمل جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔

افغانستان سے متعلق سوال پر ترجمان نے افغان طالبان حکومت کے ان الزامات کو بے بنیاد اور غیر مصدقہ قرار دیا کہ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کا خطرہ گمراہ کن پروپیگنڈے سے چھپایا نہیں جاسکتا۔ ترجمان کے مطابق پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں اب تک 3 ہزار 500 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ صرف 2026 میں یہ تعداد ایک ہزار 400 سے زیادہ رہی۔

سجاد حیدر خان نے سعودی عرب کے مکہ اور مدینہ ریجنز کو نشانہ بنانے والے حوثی میزائل حملوں کی بھی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ 26 اکتوبر کے حملے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

ترجمان نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مقدس مقامات کی حرمت اور شہریوں کی سلامتی کو نظرانداز کرنا ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ جمعے کی شب خلیج فارس کے بین الاقوامی پانیوں میں سفر کرنے والے پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک ایل این جی بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ جہاز پر موجود 25 رکنی عملے میں پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔

ترجمان کے مطابق حملے کے نتیجے میں جہاز پر معمولی آگ لگی، تاہم تمام اہلکار محفوظ رہے اور جہاز بحفاظت قطر واپس پہنچ گیا۔ پاکستانی حکام واقعے کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے متعلقہ فریقین سے رابطے میں ہیں۔

ترجمان نے اردن میں چرچ کے جنازے کے جلوس پر دہشت گرد حملے کی بھی مذمت کی اور اردن کی حکومت، عوام اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اردن کے ساتھ کھڑا ہے۔

پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سالانہ انسداد دہشت گردی مذاکرات 4 نومبر کو اسلام آباد میں ہوئے، جن میں دونوں ممالک نے دہشت گردی کی تمام شکلوں کے خلاف مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت 4 نومبر کو قومی آبی سلامتی سے متعلق اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں پاکستان کے آبی حقوق کے قانونی، سفارتی اور تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن نے 30 اکتوبر کو پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔ پاکستان نے رواں سال سکھ مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے 9 ہزار سے زائد انڈین شہریوں کو ویزے بھی جاری کیے۔

کرتار پور راہداری سے متعلق ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے راہداری کھلی ہے، جبکہ انڈیا نے اسے بند کر رکھا ہے۔