5 نومبر کو کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان اور نائب امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا، جبکہ ڈپٹی سیکریٹری کراچی انجینئر صابر احمد نے تین سالہ کارکردگی پر مشتمل رپورٹ ’تعمیر و ترقی کا سفر‘ پیش کی۔

جماعت اسلامی کے مطابق گزشتہ تین سال کے دوران 19 ڈسپنسریوں کو فعال بنایا گیا، 10.56 ملین مربع فٹ سڑکیں تعمیر کی گئیں، ڈیڑھ لاکھ سے زائد اسٹریٹ لائٹس نصب کی گئیں اور تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار گھرانوں تک پینے کا پانی پہنچایا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹاؤنز نے سیوریج اور پانی کی فراہمی جیسے ایسے کاموں پر بھی کروڑوں روپے خرچ کیے جو ان کے براہِ راست دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔ جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ 2027 اس کے زیرِ انتظام ٹاؤنز میں تعمیر و ترقی کے حوالے سے مزید بہتر سال ثابت ہوگا۔

حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں اور بلدیاتی نمائندوں کو مناسب وسائل اور اختیارات بھی فراہم نہیں کیے گئے۔

ان کے مطابق اس کے باوجود جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤنز نے ثابت کیا ہے کہ امانت و دیانت کے ساتھ عوام کا پیسہ عوام پر خرچ کیا جائے تو محدود وسائل میں بھی شہری مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے زیرِ انتظام ٹاؤنز شہر کے ماڈل علاقے بن چکے ہیں اور وہاں کے رہائشی تبدیلی محسوس کر رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کراچی کے ترقیاتی بجٹ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 15 سال کے دوران 3 ہزار 360 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں سے کراچی کے لیے مختص رقم کہاں خرچ ہوئی؟

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اوکٹروئے ضلع ٹیکس (OTZ) میں کراچی کا حصہ 76 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کراچی کی آبادی درست شمار کی جائے تو سندھ کا وزیراعلیٰ بھی کراچی سے منتخب ہوسکتا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کو بااختیار شہری حکومت اور اس کے قانونی حقوق دینے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول بلدیاتی انتخابات میں عوام کے مینڈیٹ کو نظرانداز کیا گیا، جماعت اسلامی سے میئر شپ چھینی گئی اور اس کے جیتے ہوئے ٹاؤنز اور یونین کونسلز پر قبضہ کیا گیا۔

انہوں نے شہر میں پانی اور ٹرانسپورٹ کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کے فور منصوبے کی لاگت 25 ارب روپے سے بڑھ کر 172 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اس کی اصل گنجائش بھی کم کردی گئی ہے۔ ان کے مطابق منصوبہ بروقت مکمل ہوجاتا تو کراچی کو موجودہ پانی کے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

انہوں نے گرین لائن منصوبے کی تکمیل میں تاخیر، ریڈ لائن منصوبے کے ڈیزائن اور یونیورسٹی روڈ کی کھدائی پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی صرف اردو بولنے والوں کا شہر نہیں بلکہ ملک کے تمام علاقوں اور زبانیں بولنے والے افراد یہاں آباد ہیں، اس لیے جماعت اسلامی تمام شہریوں کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔

امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے 234 پارک بحال کرنے کے ساتھ وہاں اوپن ایئر جم قائم کیے، اربن فاریسٹ کا نظام متعارف کرایا اور وضو کے استعمال شدہ پانی کو محفوظ بنانے کے منصوبے شروع کیے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین سال میں تقریباً 50 فیصد اسکولوں کی تعمیر نو کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں داخلوں میں اضافہ ہوا۔ ان کے مطابق گلشن اقبال ٹاؤن میں اسکولوں کے داخلوں کی تعداد میں 100 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ گلبرگ ٹاؤن میں تعلیم کارڈ کا تجربہ کامیاب رہا ہے اور اب جماعت اسلامی کا ہدف تمام 9 ٹاؤنز میں یہ کارڈ متعارف کرانا ہے، جس سے 50 ہزار بچوں کو فائدہ پہنچانے کا منصوبہ ہے۔ ہر کارڈ کی مالیت 10 ہزار روپے ہوگی۔

اس موقع پر حافظ نعیم الرحمن نے کراچی یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے 2 ہزار اسکالرشپس جاری کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جامعہ کراچی کو 8 نئی بسیں فراہم کی گئی ہیں۔

صحت کے شعبے میں منعم ظفر خان نے بتایا کہ 9 ٹاؤنز میں موجود 29 سرکاری کلینکس میں سے 19 کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق نارتھ ناظم آباد کے بلاک ای میں بنیادی صحت کے ایک مرکز سے چھ ماہ کے دوران 20 ہزار مریضوں نے علاج کی سہولت حاصل کی، جبکہ ثمن آباد میں یہ تعداد 40 ہزار رہی۔

نائب امیر جماعت اسلامی کراچی اور کے ایم سی میں اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ جماعت اسلامی ہر سال اپنی بلدیاتی کارکردگی رپورٹ میڈیا کے سامنے پیش کرتی ہے۔ ان کے مطابق بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی سے چار ٹاؤنز اور 21 یونین کونسلز چھینی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ محدود اختیارات کے باوجود جماعت اسلامی کے منتخب نمائندے ترقیاتی کام کر رہے ہیں اور انہیں ایسے مسائل بھی حل کرنا پڑ رہے ہیں جو براہِ راست ٹاؤنز کی ذمہ داری نہیں ہیں۔