پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک تاجک مشترکہ فوجی مشق ’دوستی سوئم‘ اسپیشل آپریشنز اسکول چراٹ میں منعقد کی گئی، جس کا آغاز 26 اکتوبر کو ہوا تھا۔ مشق کا مقصد دونوں ممالک کی افواج کے درمیان پیشہ ورانہ تعاون کو فروغ دینا اور انسدادِ دہشتگردی کے شعبے میں مشترکہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانا تھا۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں بتایا گیا کہ مشق کے دوران دونوں ممالک کے فوجی اہلکاروں نے انسدادِ دہشتگردی سے متعلق اپنے تجربات، عملی حکمت عملیوں اور بہترین طریقہ کار کا تبادلہ کیا۔ اس موقع پر مختلف آپریشنل ڈرلز اور تربیتی سرگرمیوں کے ذریعے فوجی دستوں کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔

مشترکہ تربیتی سرگرمیوں میں آپریشنل طریقہ کار، جنگی مہارتوں اور مختلف حالات میں مؤثر انداز سے کارروائی کرنے کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی مشق کی گئی۔ دونوں افواج کے اہلکاروں نے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے انسدادِ دہشتگردی آپریشنز میں باہمی ہم آہنگی اور تعاون کو مزید مستحکم کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ’دوستی سوئم‘ مشق پاکستان اور تاجکستان کے درمیان دیرینہ فوجی تعلقات اور دفاعی تعاون کی عکاس ہے۔ اس طرح کی مشترکہ تربیتی سرگرمیاں دونوں ممالک کی افواج کو ایک دوسرے کے عملی تجربات سے سیکھنے اور مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

مشق کے اختتام پر پاکستان اور تاجکستان نے اپنے دفاعی تعلقات اور دوطرفہ فوجی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان تربیتی روابط اور تجربات کے تبادلے کو علاقائی امن و استحکام اور مشترکہ سیکیورٹی تعاون کے لیے اہم قرار دیا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون مختلف تربیتی اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے ذریعے جاری ہے، جبکہ مشترکہ مشق ’دوستی سوئم‘ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔