اسلام آباد میں نوجوانوں کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس ملک میں لاکھوں ذہین نوجوان موجود ہیں، جنہیں تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جائے تو وہ دنیا کے بہترین نوجوانوں کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امیر خاندانوں کے بچوں کو دنیا بھر کی بہترین درس گاہوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسر ہیں، جبکہ غریب والدین اپنے بچوں کو تعلیم دلوانا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس وسائل نہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ ایچی سن کالج میں غریب کا بچہ قدم بھی نہیں رکھ سکتا، اسی لیے ایچی سن کالج کے مقابلے میں دانش اسکول قائم کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ معاشرے میں امیر اور غریب کے بچوں کو مساوی مواقع ملنے چاہئیں۔ اگر دونوں طبقات کے بچوں کو یکساں معیار کی تعلیم نہیں ملے گی تو یہ قائداعظم کا پاکستان نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب بھر میں دانش اسکولوں کا جال پھیلایا گیا ہے، جب کہ اب گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور بلوچستان میں بھی دانش اسکول قائم کیے جا رہے ہیں، جہاں بچوں کو مفت تعلیم فراہم کی جائے گی اور تعلیم کا معیار ایچی سن کالج سے کم نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں تعلیم کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص کیے ہیں۔ گزشتہ سال پورے پاکستان سے طلبہ کو میرٹ پر سرکاری خرچ پر چین بھیجا گیا تاکہ وہ جدید زرعی تعلیم حاصل کرسکیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ اب ایک ہزار بچوں کو سرکاری خرچ پر آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تعلیم کے لیے چین بھیجا جائے گا۔

شہباز شریف نے بتایا کہ اسلام آباد میں دانش یونیورسٹی اگلے سال قائم کردی جائے گی اور اسی سال وہاں کلاسز بھی شروع ہونے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ دانش یونیورسٹی میں ٹیکنیکل اور جدید علوم پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور داخلے میرٹ کی بنیاد پر ہوں گے۔ پیسہ ہو یا نہ ہو، مستحق اور اہل نوجوانوں کو بہترین تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اب تک 7 لاکھ بچوں میں میرٹ پر لیپ ٹاپ تقسیم کیے جاچکے ہیں اور ایک بھی لیپ ٹاپ سفارش پر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ رواں سال پورے ملک کے ڈھائی لاکھ بچوں میں کروم بکس تقسیم کی جائیں گی، تاہم اس پروگرام میں نجی اسکولوں کے بچوں کو شامل نہیں کیا گیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ انہیں لیپ ٹاپ اسکیم پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور یہ طعنہ بھی دیا گیا کہ لیپ ٹاپ رشوت کے طور پر دیے گئے، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ان لیپ ٹاپس نے نوجوانوں کو عزت کے ساتھ روزگار کمانے اور جدید دنیا میں داخل ہونے کا موقع نہیں دیا؟

انہوں نے کہا کہ وہ لیپ ٹاپ کو صرف ایک مشین نہیں بلکہ مشن سمجھتے ہیں اور اس پروگرام کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے نوجوانوں کے عالمی دن کے موقع پر ملک کی پہلی نیشنل یوتھ پالیسی کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام لیبر فورس میں خواتین کے لیے 35 فیصد کوٹا لازمی ہوگا، جبکہ نوجوانوں کو صرف ملازمتوں کا منتظر رہنے کے بجائے اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے اسٹارٹ اپس میں بھی مدد فراہم کی جائے گی۔

وزیراعظم نے نوجوانوں کے لیے اسٹارٹ اپس کے حوالے سے 10 فیصد کوٹے کا اعلان بھی کیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ 1947ء میں پاکستان ان کے بزرگوں نے بنایا تھا، لیکن 2047ء کا پاکستان نوجوان اپنی مرضی اور صلاحیتوں سے بنائیں گے۔