ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمندری راستوں پر تجارتی جہازوں کی آزادانہ اور محفوظ نقل و حرکت کے اصول پر یقین رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی مزید تفصیلات حاصل کرنے کے لیے پاکستان سعودی حکام اور یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت سے رابطے میں ہے

ترجمان نے بتایا کہ حملے میں جاں بحق ہونے والے پاکستانی شہریوں کی میتیں وطن لانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ متعلقہ حکام واقعے کی تفصیلات اور پاکستانی شہریوں سے متعلق معلومات جمع کر رہے ہیں

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ باب المندب دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں شمار ہوتا ہے اور یہاں تجارتی جہازوں کی سلامتی عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے

ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتے کی اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر 7 اگست کے مکہ معاہدے کا بھی ذکر کیا اور واضح کیا کہ یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کا مقصد خطے کی سیکیورٹی صورتحال سے مشترکہ طور پر نمٹنا ہے۔ پاکستان نے اس معاہدے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے اور وزیراعظم شہباز شریف نے لیڈر آف دی ہاؤس کی حیثیت سے معاہدے پر دستخط کیے۔

ترجمان نے مکہ معاہدے کے حوالے سے ریاستی اداروں میں اختلافات کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ اداروں کو اعتماد میں نہ لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی اداروں کے درمیان اختلافات سے متعلق پروپیگنڈا ایک ہمسایہ ملک کی جانب سے کیا جارہا ہے۔

مکہ معاہدے میں مزید ممالک کی شمولیت سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ معاہدہ اوپن ہے، تاہم نئے ممالک کی شمولیت کے حوالے سے اس وقت کوئی حتمی بات نہیں کی جاسکتی۔

انہوں نے کہا کہ چین اور امریکا کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات کے فورمز بھی کھلے ہیں، جبکہ پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی معاہدے کا حصہ ہے اور اس پر عمل درآمد کررہا ہے

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد اور متعلقہ فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے براہ راست اور بالواسطہ تمام سفارتی ذرائع استعمال کررہا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان امن کے لیے ثالثی کے حوالے سے پرامید ہے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی حمایت کرتا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ اسلام آباد میں مذاکرات فریقین کی رضامندی سے کسی بھی وقت دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں، اگرچہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مکمل عمل درآمد شاید نہ ہوسکا ہو، تاہم امن کے لیے بنیادی فریم ورک اب بھی یہی یادداشت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی میں فریقین کی رضامندی سے توسیع ممکن ہے، جس سے مذاکرات کی بحالی کی راہ بھی ہموار ہوسکتی ہے

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے دورے پر ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر بات چیت کرنا ہے۔

تاہم طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ انہیں محسن نقوی کے دورہ ایران کے دوران کسی خصوصی پیغام کے بارے میں علم نہیں۔

دوسری جانب بحرین کے وزیر خارجہ نے پاکستان کا دورہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، جس کا نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خیرمقدم کیا ہے

ترجمان دفتر خارجہ نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر بھارتی بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سیاسی فائدہ اٹھانے کے بجائے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر توجہ دے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کو کشمیری عوام کو ان کا حق خودارادیت دینا چاہیے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں

آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان پروگرام پر موجود ہے اور اب تک کامیابی سے تین جائزے مکمل کرچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان معاشی اصلاحات اور عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ طے شدہ پروگرام پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔

ترجمان نے مجموعی طور پر واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کو ترجیح دیتا ہے، جبکہ علاقائی سلامتی، سمندری تجارت اور دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے متعلقہ ممالک کے ساتھ رابطے جاری رکھے جائیں گے۔