چیف جسٹس آف پاکستان کی منظوری سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ تقرریاں آئین کے آرٹیکل 175 اے کی شق 2 (7) کے تحت کی گئی ہیں۔ چیف جسٹس خود بھی جوڈیشل کمیشن کے سربراہ ہیں۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ان ارکان کے نام سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قائدِ ایوان کی جانب سے نامزد کیے گئے ہیں۔

جوڈیشل کمیشن میں یہ نشستیں سینئر وکیل فاروق ایچ نائیک اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی شیخ آفتاب احمد کے استعفوں کے بعد خالی ہوئی تھیں۔ دونوں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر کمیشن سے استعفیٰ دیا تھا۔

نئی نامزدگیوں کے تحت پیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی جبکہ مسلم لیگ (ن) کو سینیٹ کی جانب سے نمائندگی دی گئی ہے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق قانون سازی میں تعاون کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات بھی دور ہو گئے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پیپلز پارٹی نے آنے والے عرصے میں قومی اسمبلی اور سینیٹ، دونوں ایوانوں میں حکومتی قانون سازی کی حمایت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں نے انتخابی اصلاحات کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جس کی سربراہی پیپلز پارٹی کو دی جائے گی۔

اس کمیٹی میں پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان شامل ہوں گے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ہر جماعت کی نمائندگی کا تعین متعلقہ ایوان میں اس کی نشستوں کی تعداد کے مطابق کیا جائے گا۔