ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ہولی سی کے سیکریٹری برائے تعلقاتِ ریاست آرچ بشپ پال رچرڈ گلاگر کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان اور ہولی سی کے باہمی تعلقات، بین المذاہب مکالمے، علاقائی و عالمی امن اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان افہام و تفہیم بڑھانے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
آرچ بشپ پال رچرڈ گلاگر پاکستان اور ہولی سی کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان کے دورے پر ہیں۔ اس دورے کو دونوں فریقوں کے درمیان دیرینہ سفارتی روابط اور تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے۔
ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے آرچ بشپ پال رچرڈ گلاگر کا خیرمقدم کیا اور امن، مکالمے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ہولی سی کے کردار کو سراہا، مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان باہمی احترام اور برداشت کو فروغ دینا پُرامن معاشروں کی تشکیل کے لیے ضروری ہے۔
نائب وزیراعظم نے پاکستان کی مسیحی برادری کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا، بالخصوص تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کیتھولک اداروں اور مسیحی برادری کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے مذہبی ہم آہنگی اور مختلف برادریوں کے درمیان تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معاشرتی ترقی اور استحکام کے لیے تمام شہریوں کی خدمات اہم ہیں۔
اس موقع پر آرچ بشپ پال رچرڈ گلاگر نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا، مکالمہ، ثالثی اور سفارت کاری تنازعات کے حل اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اہم ذرائع ہیں۔
ملاقات میں اس بات پر بھی گفتگو ہوئی کہ مذہبی اختلافات کو باہمی احترام اور پرامن مکالمے کے ذریعے سمجھنے کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔ دونوں جانب سے اس امر کی اہمیت اجاگر کی گئی کہ مختلف مذاہب کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانے سے غلط فہمیوں میں کمی اور مشترکہ انسانی اقدار کے فروغ میں مدد مل سکتی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے پوپ لیو چہاردہم کی جانب سے امن اور مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کے لیے کیے جانے والے اصولی مطالبات کو سراہا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے فلسطین میں جاری انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
نائب وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی مسئلے کے پائیدار حل کے لیے عالمی برادری کی مسلسل سفارتی کوششیں ضروری ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل ناگزیر ہے۔
ملاقات کے دوران عالمی امن، انسانی وقار اور مختلف معاشروں کے درمیان تعاون سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مکالمے کے مواقع بڑھانا اور سفارتی روابط برقرار رکھنا اہم ہے۔
پاکستان اور ہولی سی کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر آرچ بشپ پال رچرڈ گلاگر کا دورہ دونوں فریقوں کو اپنے تعلقات کا جائزہ لینے اور مستقبل میں تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے کا موقع فراہم کررہا ہے۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم بنانے اور بین المذاہب احترام، افہام و تفہیم اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ فریقین نے مکالمے اور سفارت کاری کو عالمی و علاقائی تنازعات کے حل اور امن کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔







