امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کرس مرفی نے کہا کہ انہیں خطے میں موجود امریکی فوجی ٹھکانوں کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ متعلقہ حکام نے اس فیصلے کے لیے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیا۔

سینیٹر کرس مرفی کے مطابق انہیں حکام کی جانب سے دی گئی وضاحت پر تحفظات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سے قبل عراق اور افغانستان میں جنگ کے دوران بھی امریکی فوجی تنصیبات کا دورہ کرچکے ہیں، اس لیے موجودہ صورتحال میں دورے سے روکنے کے فیصلے پر سوالات اٹھتے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ یہ معاملہ محض سیکیورٹی انتظامات کا نہیں بلکہ ایران کے خلاف جنگ میں ہونے والے نقصانات اور اخراجات سے متعلق معلومات سامنے آنے سے روکنے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے۔ تاہم پینٹاگون کی جانب سے ان الزامات کی آزادانہ تصدیق یا ان کے جواب سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

کرس مرفی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ خطے میں محکمۂ دفاع کے حکام نے امریکی سفارت خانے میں انہیں بریفنگ دینے سے انکار کردیا، سفارتی اور فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ان کے دورے کا اہم مقصد تھا۔

امریکی سینیٹر نے بتایا کہ محکمۂ خارجہ نے انہیں امریکی سفارت خانے کو پہنچنے والے نقصان کا معائنہ کرنے کی اجازت دی،بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی۔ انہوں نے اس نقصان کی نوعیت اور اس کے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔

کرس مرفی نے کہا کہ اگر امریکی سفارت خانے پر حملہ رات کے بجائے دن کے وقت ہوتا تو بڑی تعداد میں امریکی شہری ہلاک ہوسکتے تھے، سفارتی تنصیبات کی سیکیورٹی اور خطے میں امریکی اہلکاروں کو درپیش خطرات کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔

سینیٹر کے مطابق جنگ کے دوران امریکی فوجی تنصیبات اور سفارتی مقامات کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے آنا ضروری ہیں، تاکہ جنگ کے اثرات، مالی اخراجات اور انسانی نقصان کا درست اندازہ لگایا جاسکے۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف جنگ کے دوران 81 طیاروں کے نقصان کا اعتراف کیا ہے۔ تاہم اس دعوے کی تفصیلات، نقصان میں شامل طیاروں کی اقسام اور امریکی حکام کی جانب سے اس تعداد کی باضابطہ تصدیق کے بارے میں مزید شواہد درکار ہیں۔

ایران جنگ کے اخراجات اور فوجی نقصانات سے متعلق بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جنگ کے دوران امریکی فوجی کارروائیوں، دفاعی اخراجات اور خطے میں امریکی تنصیبات کو لاحق خطرات پر بحث جاری ہے۔

کرس مرفی کے الزامات نے اس معاملے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں کہ جنگ کے دوران منتخب نمائندوں کو فوجی اور سفارتی تنصیبات کی صورتحال تک کس حد تک رسائی دی جانی چاہیے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی خدشات کو جواز بنایا گیا، جبکہ سینیٹر نے اس فیصلے کو حقائق تک رسائی میں رکاوٹ قرار دیا۔

تاہم ایران جنگ میں امریکی نقصانات کی مکمل مالیت، تباہ یا متاثر ہونے والی تنصیبات کی مجموعی تعداد اور فوجی وسائل کو پہنچنے والے نقصان کی آزادانہ طور پر تصدیق شدہ تفصیلات اس معاملے کی مکمل تصویر واضح کرنے کے لیے اہم ہوں گی۔