’فرانس 24‘ اور دیگر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ناوی پلے 2008 سے 2014 تک اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے عہدے پر فائز رہیں۔ وہ انسانی حقوق کے تحفظ اور بین الاقوامی سطح پر سنگین جرائم کے احتساب کے لیے طویل عرصے سے کام کر رہی ہیں۔
نوبیل انعام کی ویب سائٹ کے مطابق ناوی پلے نے نسلی امتیاز کے دور میں جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں بھارتی تامل نژاد خاندان میں آنکھ کھولی۔ ان کے طویل قانونی کیریئر میں عالمی قانونی اصولوں سے وابستگی اور مضبوط اخلاقی مؤقف نمایاں رہے ہیں۔
23 ستمبر 1941 کو جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں پیدا ہونے والی ناوی پلے پیشے کے اعتبار سے وکیل اور جج ہیں۔ وہ صوبہ نٹال کی ہائی کورٹ میں جج مقرر ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون تھیں۔ ان کے قانونی اور انسانی حقوق سے متعلق کام نے انہیں عالمی سطح پر شناخت دلائی۔
نوبیل امن انعام کا اعلان ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ناروے کی نوبیل کمیٹی کے چیئرمین جورگن واٹنے فرائڈنیس نے کیا۔







