امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر عمل درآمد اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے تمام اقدامات دفاعی نوعیت کے ہوں گے، معاہدے کے تحت کس نوعیت کی فوجی تعیناتی ہوگی، کون سا دستہ بھیجا جائے گا اور اسے کس طرح استعمال کیا جائے گا، ان معاملات کا فیصلہ متعلقہ آپریشنل کمانڈرز کریں گے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں، موجودہ معاہدے کو اسی دیرینہ شراکت داری کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ اسے اچانک تشکیل پانے والا اتحاد قرار دیا جائے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو خطے کے استحکام کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں سیکیورٹی کے نئے چیلنجز سامنے آئے ہیں۔ ایسے حالات میں مشترکہ دفاعی تعاون ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کا بنیادی مقصد سعودی عرب کے دفاع کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق معاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس سے مشترکہ دفاعی صلاحیت کو تقویت ملے گی اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کی حوصلہ شکنی ہوسکے گی۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ اس معاہدے کا مقصد کسی ملک کو دوست یا دشمن قرار دینا نہیں، بلکہ سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کو یقینی بنانا ہے، پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے اور معاہدے کے تحت دفاعی نوعیت کے اقدامات کیے جائیں گے۔

انٹرویو کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر بھی گفتگو کی، پاکستان ماضی میں بھی اختلافات کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا پُرامن حل تلاش کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی یہ کردار جاری رکھے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع مزید نہ پھیلے، کیونکہ جنگ کے دائرے میں وسعت سے خطے کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے، پاکستان نے ایک غیر جانب دار اور دیانت دار ثالث کے طور پر جنگ بندی کی کوششوں میں کردار ادا کیا ہے اور سفارتی رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی حمایت جاری رکھی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کا بنیادی مفاد علاقائی امن و استحکام میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے شراکت داروں اور دوست ممالک کو بھی یہ مؤقف پہنچایا ہے کہ جنگ کو مزید پھیلانے سے کسی فریق کو فائدہ نہیں ہوگا، اس لیے اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ ممالک کشیدگی میں اضافے کے بجائے بات چیت کے راستے اختیار کریں۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ جاری تنازعات کو محدود رکھا جائے اور ایسے سفارتی حل تلاش کیے جائیں جو علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے مددگار ثابت ہوں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان میں دو اہم پہلو نمایاں رہے: سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کے دیرینہ عزم کا اعادہ اور امریکا ایران تنازع کے پُرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا مؤقف، پاکستان دفاعی تعاون کے ذریعے سعودی عرب کی سلامتی کو اہمیت دیتا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کا خواہاں بھی ہے

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر عمل درآمد کے عملی طریقۂ کار، فوجی دستوں کی تعیناتی اور ان کے استعمال سے متعلق فیصلے متعلقہ آپریشنل کمانڈرز کریں گے، جبکہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔