آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ بلوچستان اور پاکستان کا حال بھی ایک ہے اور مستقبل بھی ایک ہی رہے گا، بلوچستان کی ترقی، امن اور خوشحالی پاکستان کی مجموعی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان کے عوام کو باصلاحیت، ثابت قدم، محب وطن اور باوقار قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام نے ملک کے لیے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ بلوچستان کے وسیع انسانی اور قدرتی وسائل ملکی معیشت کے لیے بھی بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے امن، استحکام اور واضح قومی سوچ بنیادی ضرورت ہے۔ پائیدار امن کے قیام سے صوبے میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں اور مقامی وسائل کو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں، تاہم ان امکانات کو عملی شکل دینے کے لیے ریاستی اداروں، سیاسی قیادت، مقامی عمائدین اور عوام کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان کے نوجوانوں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان صوبے کا سب سے متحرک، باصلاحیت اور امید افزا طبقہ ہیں۔ نوجوانوں کو تعلیم، روزگار، ہنر اور ترقی کے مواقع فراہم کرنا پائیدار معاشی اور سماجی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں بروئے کار لاکر نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کی ترقی کو تیز کیا جاسکتا ہے، نوجوانوں کو قومی ترقی کے عمل میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان سمیت بیرونی سرپرستی رکھنے والے پراکسی عناصر بلوچستان میں بدامنی پیدا کرکے ترقی کے عمل کو متاثر کرنے اور ریاست و عوام کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آرمی چیف نے واضح کیا کہ ایسے عزائم کو قوم کے اجتماعی عزم، ریاستی اداروں کے پختہ ارادے اور فیصلہ کن اقدامات کے ذریعے ناکام بنایا جائے گا، پاکستان کے خلاف ہونے والی منفی سرگرمیوں اور پروپیگنڈے کا مؤثر انداز میں مقابلہ ضروری ہے۔
انہوں نے بلوچستان کی سیاسی و سماجی قیادت اور اہم شخصیات کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ امن کے فروغ، معاشرتی ہم آہنگی اور تعمیری قومی مکالمے کے لیے مقامی قیادت کا کردار انتہائی اہم ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ بلوچستان کے بارے میں منفی اور گمراہ کن بیانیوں کا ہر سطح پر مقابلہ کیا جانا چاہیے، حقائق کو عوام کے سامنے لانا اور صوبے کی حقیقی ترقی، صلاحیتوں اور عوام کی خواہشات کو اجاگر کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بلوچستان کے عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد اور تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے، کیونکہ امن و ترقی کے مقاصد مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہی حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
آرمی چیف نے واضح الفاظ میں کہا کہ بلوچستان کی تقدیر کا فیصلہ بلوچستان کے عوام ہی کریں گے۔ صوبے کے عوام کی خواہشات، امن، خوشحالی اور ترقی کو سامنے رکھتے ہوئے مستقبل کی سمت کا تعین کیا جانا چاہیے۔
ملاقات میں شریک سیاسی، سماجی اور دیگر اہم شخصیات نے بلوچستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا۔ شرکا نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ ملک میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے بیرونی سرپرستی یافتہ عناصر کے خلاف ریاست اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
شرکا کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال صوبہ بنانے کے لیے اجتماعی کوششوں کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے عوام پر مرکوز ترقی، نوجوانوں کے لیے مواقع، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو ترجیح دی جائے گی۔
ملاقات کے شرکا نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ بلوچستان میں مثبت اور تعمیری بیانیے کو فروغ دیا جائے گا، جبکہ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جائے گی جو منفی پروپیگنڈے کے ذریعے عوام اور ریاست کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بلوچستان کا امن اور استحکام نہ صرف صوبے بلکہ پورے پاکستان کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ریاستی اداروں، سیاسی قیادت، قبائلی و سماجی عمائدین اور عوام کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان کی قیادت اور اہم شخصیات کی جانب سے امن، استحکام اور ترقی کے لیے تعاون کو سراہا، جبکہ شرکا نے بلوچستان اور پاکستان کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔







