اسرائیلی ویب سائٹ ’وائے نیٹ‘ نے ایک سینئر اماراتی ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ حمام الحَمّامی پر پرواز میں سوار افراد کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے اور طیارے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کا الزام ہے، جس کے باعث اماراتی حکام کی جانب سے ممکنہ طور پر سخت ترین سزا دی جاسکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس اہلکار بھی واقعے کی تحقیقات میں معاونت کے لیے متحدہ عرب امارات پہنچے ہیں۔
یہ واقعہ 30 ستمبر کو فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 میں پیش آیا جو دبئی سے تل ابیب جارہی تھی۔ طیارے میں 170 سے زائد افراد سوار تھے۔ دوران پرواز شریک پائلٹ نے کپتان پر کاک پٹ میں حملہ کیا اور طیارے کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں جہاز اچانک تیزی سے بلندی کھونے لگا۔ متحدہ عرب امارات کے پراسیکیوٹر جنرل نے بعد میں واقعے کو ’دہشتگرد حملے کی کوشش‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شریک پائلٹ نے کاک پٹ میں موجود ہنگامی کلہاڑی سے کپتان پر حملہ کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق حملے کے نتیجے میں کپتان زخمی ہوئے، تاہم انہوں نے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیابی حاصل کی، جس کے بعد مسافروں اور عملے کے دیگر ارکان نے مداخلت کرکے شریک پائلٹ کو قابو کرلیا۔ طیارے کا کنٹرول بعد میں پرواز میں موجود آف ڈیوٹی پائلٹس نے سنبھالا اور اسے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی طور پر اتارا گیا۔
تحقیقات کے دوران حمام الحَمّامی کی شناخت عمانی شہری کے طور پر کی گئی ہے۔ مختلف رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسے ماضی میں عمان میں پائلٹ کے طور پر پرواز سے روکا گیا تھا، تاہم اس کے پس منظر اور مبینہ نظریات سے متعلق بعض تفصیلات کی سرکاری طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوئی۔
امریکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں، جبکہ اسرائیلی حکام بھی تحقیقات میں شریک ہیں۔ آسٹریلوی حکام نے بھی حمام الحَمّامی کے آسٹریلیا سے ممکنہ روابط کی تحقیقات شروع کی ہیں، کیونکہ وہ ماضی میں وہاں تعلیم حاصل کرچکا تھا۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تفتیش کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ شریک پائلٹ نے یہ کارروائی اکیلے کی یا کسی تنظیم یا دوسرے افراد سے اس کا کوئی تعلق تھا۔ اب تک کسی دہشتگرد تنظیم کی جانب سے واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کی اطلاع نہیں ہے۔
واقعے کے بعد اسرائیلی حکام نے غیر ملکی ایئرلائنز کی پروازوں اور ان میں تعینات عملے کی سیکیورٹی جانچ کا بھی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بین الاقوامی پروازوں سے متعلق سیکیورٹی پروٹوکول کا جامع جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب واقعے سے متعلق تحقیقات جاری ہیں اور شریک پائلٹ کے خلاف قانونی کارروائی، ممکنہ الزامات اور سزا کے بارے میں حتمی فیصلہ متعلقہ اماراتی حکام کی تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی واضح ہوگا۔ اس لیے سزائے موت سے متعلق موجودہ اطلاعات کو فی الحال میڈیا رپورٹس اور ذرائع سے منسوب کیا جارہا ہے۔







