میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پیٹرول پر ریلیف دیا جانا عوام پر کوئی احسان نہیں بلکہ جماعت اسلامی کی احتجاجی مہم کے دباؤ کے بعد یہ اقدام کیا گیا ہے، حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے مخصوص طبقات اور گاڑیوں کے لیے پیکیج متعارف کرایا، تاہم اس سے ہر شہری مستفید نہیں ہو رہا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کے موجودہ ریلیف پیکیج میں موٹر سائیکل استعمال کرنے والے تمام افراد شامل نہیں، جبکہ ملک میں موٹر سائیکلوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ محدود اور مخصوص ریلیف کے بجائے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں کمی یا اس کے خاتمے کے ذریعے عوام کو مستقل ریلیف فراہم کیا جانا چاہیے۔
وفاقی حکومت نے ستمبر میں پیٹرول کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے خصوصی فیول ریلیف اسکیم شروع کی تھی، جس کے تحت موٹر سائیکلوں، رکشوں، چنگ چی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے فی لیٹر 100 روپے تک ریلیف مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں عوامی ردعمل کی بنیاد پر اسکیم میں بعض تبدیلیاں بھی کی گئیں۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر اصل حل اسی وقت نکلے گا جب لیوی ختم کی جائے گی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر اضافی بوجھ کے معاملے پر تمام حلقے خاموش کیوں ہیں، امیر اور کم آمدن والے طبقات کے لیے الگ الگ نظام بنانے کے بجائے ایسا طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے جس سے عام صارف کو براہ راست فائدہ پہنچے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور اس معاملے پر حکومت کے ساتھ مذاکرات اور احتجاجی سرگرمیوں کے بعد آئندہ حکمت عملی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی اس سے قبل بھی واضح کرچکی ہے کہ حکومتی ریلیف پیکیج اس کی لیوی مخالف مہم کا متبادل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہتے بلکہ اشیائے ضروریہ، کاروباری سرگرمیوں اور روزمرہ اخراجات پر بھی پڑتے ہیں۔ پیٹرول کی قیمت میں کمی کا براہ راست اثر عام شہری کی زندگی پر پڑ سکتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حوالے سے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور 7 اکتوبر کے بعد آئندہ مرحلے کا اعلان کیا جائے گا، پارٹی کا مطالبہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو مستقل بنیادوں پر ریلیف فراہم کرنے سے متعلق ہے۔
فلسطین کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے اسرائیلی کارروائیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جماعت اسلامی فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرتی رہے گی۔ فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ان کے حقوق کے لیے بات کرنا جماعت اسلامی کی پالیسی کا حصہ ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے الزام عائد کیا کہ فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں میں امریکا بھی اسرائیل کی معاونت کر رہا ہے، جماعت اسلامی فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور فلسطین کے معاملے پر اپنی سیاسی و عوامی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔
حالیہ دنوں میں جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات بھی ہوئے ہیں، جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے لیوی کے مکمل خاتمے کا مطالبہ برقرار رکھا گیا ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق جماعت اسلامی نے حکومتی ریلیف اسکیم کو ناکافی قرار دیتے ہوئے اپنی مہم جاری رکھنے کا مؤقف اختیار کیا تھا۔
حافظ نعیم الرحمان کے تازہ بیان کے مطابق 7 اکتوبر کے بعد جماعت اسلامی اس معاملے پر اپنے آئندہ اقدامات اور احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کرے گی، جبکہ حکومت کی جانب سے دیے گئے موجودہ ریلیف پیکیج کے باوجود پیٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے کا مطالبہ جماعت اسلامی کے مؤقف کا مرکزی نکتہ برقرار ہے۔







